بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

رہن میں رکھی ہوئی چیز کی زکوۃ


سوال

اگر کوئی شخص کسی کے پاس کوئی مال رہن (گروی) کے طور پر رکھے، تو سال مکمل ہونے پراس مال کی زکوٰۃ شرعاراہن(جس کا مال ہے) پر واجب ہوگی یا مرتہن(جس کے پاس رہن رکھا گیا ہے) پر؟ 

جواب

واضح رہے کہ زکوۃ کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ وہ مال زکوٰۃ ادا کرنے والے کی ملکیت اور قبضے میں ہو۔ لہٰذا اگر کوئی چیز ملکیت میں نہ ہو یا قبضے میں نہ ہو، تو شرعاً اس پر اس مال کی زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی شخص کسی کے پاس کوئی مال رہن (گروی) کے طور پر رکھے، تو سال مکمل ہونے پر اس مال کی زکوٰۃ نہ راہن کے ذمے واجب ہوگی اور نہ مرتہن کے ذمے، راہن پر اس لیے نہیں کہ اس کے قبضہ وقدرت میں نہیں اور مرتہن پر اس لیے نہیں ہے کہ اس کی ملکیت میں نہیں ہے۔

 

ومنها:الملك التام وهوما اجتمع فيه الملك واليد، وأما إذا وجد الملك دون اليد، كالصداق قبل القبض، أو وجد اليد دون الملك، كملك المكاتب والمديون، لاتجب فيه الزكاة، كذا في السراج الوهاج ...  ولا على الراهن إذا كان الرهن في يد المرتهن، هكذا في البحر الرائق. (الفتاوى الهندية،كتاب الزكوة، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها ،ج:1،ص:172

ولا في مرهون بعد قبضه.(قوله: ولا في مرهون) أي لا على المرتهن لعدم ملك الرقبة ولا على الراهن لعدم اليد، وإذا استرده الراهن لايزكي عن السنين الماضية، وهو معنى قول الشارح بعد قبضه، ويدل عليه قول البحر: ومن موانع الوجوب الرهن و ظاهره ولو كان الرهن أزيد من الدين ( رد المحتار على الدر المختار،كتاب الزكوة،ج:2،ص:263)


فتویٰ نمبر : 4009/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور