بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
تقسیم سے پہلے مشترکہ زمین کو وقف کرنا
سوال
ایک عورت نےمشترکہ جائیداد ورثاء کے درمیان تقسیم ہونے سے پہلےاور ورثاء کی رضامندی کے بغیر مدرسہ کے لیے 2013ءمیں وقف کردی ہے،اور اس کااسٹامپ پیپربھی لکھاہےلیکن ابھی تک وقف شدہ زمین کا قبضہ متولی کو نہیں دیا گیا ہے،اور 2020ء میں وقف کرنے والی فوت ہو گئی ہے، تو آیااس صورت میں وقف تام ہو چکا ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگرکسی مشترکہ زمین میں تمام شرکا وقف کرنے پر راضی نہ ہوں تو تقسیم سےقبل کسی ایک شریک کا اس زمین کو وقف کرنا جائز نہیں۔
لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق اگراس عورت نےمشترکہ جائیداد کو تقسیم ہونے سے پہلےدیگر ورثا کی اجازت کے بغیر مدرسہ کےلیے وقف کیاہو تو یہ وقف جائز نہیں کیونکہ یہ دوسرے کی زمین اس کی اجازت کے بغیر وقف کرنا ہے،جو شرعاً جائز نہیں اور اگر اس عورت نے اپنے حصے کے بقدر زمین وقف کی ہو تو تقسیم سے قبل یہ بھی جائز نہیں کیونکہ اس صورت میں یہ وقفِ مشاع ہے،لہذا وقف نہ ہونے کی وجہ سےاسے ورثاء میں بقدر حصص تقسیم کیا جائے گا۔
وقف المشاع المحتمل للقسمة لا يجوز عند محمد - رحمه الله تعالى - وبه أخذ مشايخ بخارى وعليه الفتوى.( الفتاوى الهندية،كتاب الوقف الباب الثاني فيما يجوز وقفه، فصل في وقف المشاع،ج:2، ص:365 )
قوله (ووقف المشاع جائز عند أبي يوسف) يعني فيما يحتمل القسمة (وقال محمد لا يجوز) أما فيما لم يحتملها فيجوز مع الشيوع أيضا عند محمد إلا في المسجد والمقبرة فإنه لا يتم مع الشيوع فيما لا يحتمل القسمة أيضا عند أبي يوسف؛ لأن بقاء الشركة يمنع الخلوص لله تعالى ولأن المهايأة في ذلك في غاية القبح بأن يقبر فيها الموتى سنة وتزرع سنة ويصلى في المسجد في وقت ويتخذ إصطبلا في وقت بخلاف ما عدا المقبرة والمسجد لإمكان الاستغلال وقسمة الغلة وقوله وقال محمد لا يجوز يعني فيما يحتمل القسمة؛ لأن أصل القبض عنده شرط ولأنه نوع تبرع فلا يصح في مشاع يحتمل القسمة كالهبة.( الجوهرة النيرة على مختصر القدوري،كتاب الوقف،ج:1،ص:334)
لايجوز لأحد أن يتصرف في ملك غيره بلا إذنه أو وكالة منه أو ولاية عليه۔ (شرح المجلة لسليم رستم باز، ماده:92،ص:61)