بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
زمین سے ریت نکالنے پر خمس کا حکم
سوال
ہمارے علاقے میں زمینوں سے ریت نکال کر دیگر شہروں کو سپلائی کی جاتی ہے۔ کیا اس میں خُمس لازم ہوگا یا نہیں؟ وضاحت فرمائیں۔
جواب
خمس صرف اس دفینہ میں لازم ہوتا ہے جو ایسی دھات کی صورت میں ہو کہ آگ سے پگھل سکتی ہو۔ جو آگ سے نہ پگھلے، تو اس میں خُمس لازم نہیں ہوتا۔ البتہ اگر وہ چیز بیچی جا رہی ہو تو اس پر زکوۃ کا حکم لاگو ہوگا۔
صورتِ مسئولہ میں چونکہ زمین سے ریت نکال کر سپلائی کی جاتی ہے، اور ریت آگ سے نہیں پگھلتی، اس لیے اس میں خُمس لازم نہ ہوگا۔ البتہ اس میں زکوۃ لازم ہوگی۔
(قوله خمس معدن نقد ونحو حديد في أرض خراج أو عشر)...والنقد الذهب والفضة ونحو الحديد كل جامد ينطبع بالنار كالرصاص والنحاس والصفر، وقيد به احترازا عن المائعات كالقار والنفط والملح، وعن الجامد الذي لا ينطبع كالجص والنورة والجواهر كالياقوت والفيروزج والزمرد فلا شيء فيها.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق، باب العاشر، باب الركاز،ج:2،ً:252)