بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

وسوسہ میں مبتلا شخص کی طلاق کاحکم


سوال

میں ایک موسوس اور شکی مزاج شخص ہوں۔ دو سال قبل میری بیوی سے جھگڑا ہوا تھا، اس دوران میرے منہ سے کچھ ایسے جملے نکلے تھے جو مستقبل، عزم اور ارادے پر مشتمل تھے، جن کے بارے میں میں پہلے ہی دو تین معتبر دارالافتاء سے فتوے حاصل کرچکا ہوں کہ ان سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ لیکن کچھ عرصے سے مجھے شدید وسوسے لاحق ہوگئے ہیں، جن کی وجہ سے بار بار شک پیدا ہوتا ہے اس وسوسہ اور شک نے مجھے بہت تنگ کیاہے ۔ ان وسوسوں کے ازالے کیلئے درج ذیل سوالات کے شرعی احکام مطلوب ہیں: سوال نمبر1 :ایک موقع پر دوستوں سے گفتگو کے دوران میں نے کہا: 1. ہماری بات طلاق تک پہنچ گئی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے خیر فرمائی۔ 2: دوسرے دوست کو یہ بولا تھالڑائی کے دوران میرے منہ سے جو طلاق کے الفاظ نکلے تھے اس پر میرا دل بہت خفا اور غمزدہ ہے (اشارہ دھمکی اور ارادے والے الفاظ کی طرف تھا)۔ ان دونوں جملوں میں میرا اشارہ ماضی کے جھگڑے میں کہے گئے الفاظ کی طرف تھا، بیوی کو طلاق دینے کی نیت یا خطاب مقصود نہیں تھا۔یعنی وہ الفاظ کی طرف تھا جو میں نے پہلے فتووں میں حاصل کرچکے ہیں --- سوال نمبر 2 ایک دن بیوی سے بات کررہا تھا (مجھے ماموں نے لڑائی کے دوران کچھ باتیں بیان کی تھی اس میں ایک بات یہ تھا کہ آپ کو یعنی مجھے بیوی بول رہے تھے طلاق دیدو دیدو اور اپ نے جواباً یہ بولا تھا (چی زہ ورلہ طلاق ورکوم) یعنی طلاق دوں گا ارادے کے لحاظ سے بولا تھا، لیکن بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ میں نے جواب میں ایسا کچھ نہیں بولا تھا اس پر میں اللہ تعالی کی قسم بھی کھاتا ہوں گھر میں موجود افراد بھی اس پر گواہ ہیں کہ آپ نے جواباً ایسے الفاظ نہیں بولےتھے ہاں البتہ بیوی کے ان الفاظ کے مطالبے میں میں نے کنائی الفاظ استعمال کیےتھے وہ یہ تھے "زہ زہ روکے گا بیا رانشی" میرا نیت طلاق کا نہیں تھا صرف بیوی کو سامنے سے ہٹنے کا نیت تھا لیکن یہ ماموں والے الفاظ میں نے بالکل نہیں بولے تھے پھر ماموں نے بھی بعد میں اقرار کیا شاید مجھے اچھی طرح سمجھ نہیں پاتا۔ بیوی سے فون کے دوران یہ بولا تھا لیکن میں نے  ایسا بولا تھا تو پھر بات ختم ہوگی لیکن میں نے تو ایسا بولاہی نہیں تھا اور دوسرا یہ تو ارادے کے الفاظ تھے یہاں میرا اقرار ایسا ہے اگر میں نے ایسا بولاہے تو۔۔لیکن میں نے تویہ الفاظ نہیں بولے تھے۔تواس صورت میں کیا حکم ہے۔ دوسرا یہ فرضی بات تھی، اقرار نہیں تھا۔ (اور میرے ماموں نے مختلف موقعوں پر یہ بھی بولا تھا کہ میں پورا پورا کوشش کروں گا کہ یہ رشتہ ختم کردو)لیکن اللہ تعالی کوئی رشتہ ختم کرنا نہیں چاہتے تو انسان کیسے ختم کرے گا ۔ سوال نمبر 3 ایک دن شدید وسوسوں، بے اختیاری اور ذہنی دباؤ کے عالم میں (جب ماموں کے الزام کے بارے میں سوچ رہا تھا) میرے منہ سے بے اختیار یہ الفاظ نکل گئے: “چی طلاق ورلہ ورکوم” (میں طلاق دوں گا) یہ الفاظ کسی کو مخاطب کرکے نہیں کہے گئے نہ بیوی سامنے تھی نہ طلاق کی نیت تھی یہ محض وسوسے، اضطراب اور بے قابو خیالات کے نتیجے میں نکلے میں اس پر اللہ تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہونے کو تیار ہوں کہ میری نیت طلاق کی ہرگز نہیں تھی۔ کیا وسوسے، بے اختیاری اور غیر ارادی کیفیت میں اور بغیر نیت کے کہے گئے ایسے الفاظ سے طلاق واقع ہوتی ہے؟ سوال نمبر 4 ایک موقع پر بیوی سے فون پر بات کے دوران ہم نے آپس میں یہ بات کی کہ: “اگر پہلے سے حاصل شدہ فتووں(مستقبل اور ارادے والے الفاظ فتوں) میں کوئی ایسا جواب آجائے جس سے معاملہ ختم ہو جاتا ہو (حالانکہ طلاق کا لفظ نہیں بولا گیا) تو پھر ہم کیا کریں گے مطلب کیا راستہ نکالیں گے؟” یہ گفتگو فرضی اور احتمالی تھی، طلاق کے الفاظ استعمال نہیں کیے گئے تھے۔ کیا اس طرح کی فرضی بات چیت یا امکانات پر گفتگو کرنے سے شرعاً طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں ؟ ان مندرجہ بالا صورتوں کا کیا حکم ہے ۔ میں قریبی دارالافتاء سے ان مسائل کے بارے پوچھ رہا تھا لیکن مجھے ڈر لگتا ہے اس پہلے بھی مجھے مولانا صاحب غصہ ہواتھا کہ ماضی میں جو فتوے حاصل کرچکے ہیں اس سے طلاق نہیں ہوتی تو پھر اس کے بارے میں کیوں سوچ رہے ہیں کیوں شک میں پڑتے ہو وہ تو بات اس وقت ختم ہوگئی جب اپ نے فتوی حاصل کرلیے۔ اور یہ بھی بولا کہ اپ خود کو گناہ گار کررہے ہو ۔ میں شدید ذہنی دباؤ اور وسوسوں میں مبتلا ہوں، میری بیوی اور بچے ہیں،اور بیوی کے پاس جانے سے بھی ڈر لگتا ہے مختلف خیالات اور وسوسے آتے ہیں۔ براہِ کرم میں جواب کے انتظار میں ہوں۔

جواب

بیوی پر طلاق واقع ہونے کے لیے طلاق کے الفاظ اور ان الفاظ کی بیوی کی طرف نسبت ضروری ہے ۔ اس لیے اگر زبان سے طلاق کے الفاظ نہ کہے جائیں محض دل میں خیال و وسوسہ آجائے تو اس سے طلاق واقع نہ ہوگی ۔

صورت مسئولہ میں اگر بندہ واقعی وسوسوں سے اس حد تک متاثر ہے کہ وسوسوں سے اس کی جان نہیں چھوٹتی اور اس حالت میں غیر ارادی طور پر اس کی زبان سے طلاق کے الفاظ نکل جائیں تو اس کی طلاق واقع نہ ہوگی۔

 

(قوله وموسوس) بالكسر ولا يقال بالفتح ولكن موسوس له أو إليه أي تلقى إليه الوسوسة، وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس قال: يعني المغلوب في عقله .(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الجهاد، باب المرتد، مطلب ما يشك في أنه ردة لا يحكم بها، ج:4، ص:224)

أن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها. (رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، مطلب في قول البحر: إن الصريح يحتاج في وقوعه ديانة إلى النية، ج:4، ص461)

علم أنه حلف ولم يدر بطلاق أو غيره لغا كما لو شك أطلق أم لا. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطلاق باب صريح الطلاق، مطلب الانقلاب والاقتصار والاستناد والتبيين، ج:2، ص:492)


فتویٰ نمبر : 7363/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور