بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

سرکاری ملازم کا چھٹی لے کر عمرہ کے لیے جانا


سوال

سرکاری ملازم اگر چھٹی لے کر عمرہ کے لیے جائے تو کیا اس کے لیے ان دنوں کی  تنخواہ لینا جائز ہے  جو اس نے عمرہ کی ادائیگی میں گزاری ہوں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ سرکاری محکمے کا ملازم اجیر خاص کی حیثیت رکھتا ہے اور اجیر خاص کے لیے اجرت کا استحقاق اس وقت ثابت ہوتا ہے،جب وہ اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتا ہو،ورنہ غیر حاضری کی صورت میں وہ اجرت کا مستحق نہیں،تاہم جو شخص قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے محکمہ کے ذمہ دار افسر ان سے چھٹی لے کر عمرہ کے لیے چلاجائے توا س كے لیے تنخواہ لینا جائز ہے،بشرط یہ کہ قانونی جواز ہو ۔

 

(والثاني)وهو الأجير(‌الخاص)ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل،كمن استؤجرشهرا للخدمة أو)شهرا(لرعي الغنم)المسمى بأجرمسمى.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الإجارة،مبحث الأجيرالخاص،ج:6،ص:69)


فتویٰ نمبر : 4008/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور