بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
ناشزہ عورت کو میراث میں حصہ ملنے کا حکم
سوال
اگر کسی شخص کی بیوی شوہر کا گھر چھوڑ کر چلی گئی ہو، لیکن شوہر کی طرف سے نہ طلاق دی گئی ہو اور نہ خلع واقع ہوئی ہو، اور اسی حالت میں شوہر کا انتقال ہو جائے، تو کیا اس عورت کا شوہر کی میراث میں کوئی حق ہوگا یا نہیں؟ اگر ہوگا تو اس کا حصہ کتنا ہوگا؟ نیز اگر بیوی کا انتقال شوہر سے پہلے ہو جائے تو کیا شوہر اس کی میراث میں حق دار ہوگا یا نہیں؟ اور اگر ہوگا تو اس کا حصہ کتنا ہوگا؟
جواب
واضح رہے کہ اگر ناشزہ عورت کو نہ طلاق دی گئی ہو اور نہ ہی خلع کے ذریعے نکاح سے علیحدگی ہوئی ہو تو ایسی عورت شوہر کی میراث میں حق دار ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر ناشزہ عورت پہلےفوت ہوجائے تو اس صورت میں شوہر بھی بیوی کی میراث میں حق دار ہوگا ۔
صورتِ مسئولہ میں اگر نافرمان عورت کاشوہر پہلے فوت ہوجائےتواگر اس کی کوئی اولاد نہ ہو تو عورت کو شوہر کے ترکہ میں چوتھائی حصہ ملے گا، اور اگر اس کی اولاد موجود ہو تو پھر اس کی بیوہ کو آٹھواں حصہ ملے گا۔ اور اگر عورت پہلے مر جائےتواس کی میراث میں شوہر بھی حق دار ہوگا اگراس کی کوئی اولاد نہ ہو تو شوہر کو ترکہ میں نصف حصہ ملے گا، اور اگر عورت کی اولاد موجود ہو تو شوہر کو چوتھائی حصہ ملے گا۔
قال اللہ تعالی:﴿وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ ﴾ [النساء: 12]