بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
مرد کا عورت یا عورت کا مرد سے تعلیم حاصل کرنا
سوال
کیا عورت مرد ٹیچر یا مرد عورت ٹیچر سے دنیاوی یا دینی تعلیم حاصل کرسکتا ہے یانہیں ،اور نیز یہ بھی راہنمائی فرمائیں کہ عورت کی آواز شرعا پردہ ہے یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ اسلام نے اجنبی عورتوں اور مردوں کو دیکھنے ان کے ساتھ غیر ضروری ملاقات کرنے اور میل جول رکھنے سے منع فرمایا ہے، نیز تعلیم حاصل کرنا فی نفسہ جائز اور مباح ہے لیکن تعلیم کے حصول میں شرعی امور کی رعایت از حد ضروری ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق خاتون استاد کا مرد طالب علم کو پڑھانا یا مرد استاد کا خواتین کو پڑھانا بوقت ضرورت جائز ہےاس شرط کے ساتھ کہ پردے کا مکمل اہتمام موجود ہو،فتنے کا اندیشہ نہ ہو،اختلاط، نظراور باہم گفتگوکے شرعی اصول کی مکمل رعایت رکھی جائے۔نیز عورت کی آواز راجح قول کی مطابق پردہ نہیں لیکن جہاں فتنہ کا اندیشہ ہوتو وہاں بغیرضرورت کسی کوآوازسنانا جائزنہیں،اور ضرورت کے وقت بھی آواز میں نرمی ولطافت کے بغیر صاف اور سیدھی بات کرنی چاہیے،جس سے مخاطب کے دل میں کوئی میلان وغیرہ پیدانہ ہو۔
قال الله تعالی:﴿قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (30) وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ ويَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ﴾ (النور: 30-31)
(قوله: وصوتها) معطوف على المستثنى يعني أنه ليس بعورة (قوله: على الراجح) عبارة البحرعن الحلية أنه الأشبه. وفي النهر:وهوالذي ينبغي اعتماده. ومقابله ما في النوازل: نغمة المرأة عورة، وتعلمها القرآن من المرأة أحب. قال عليه الصلاة والسلام:"التسبيح للرجال، والتصفيق للنساء"، فلايحسن أن يسمعها الرجل.اهـ. وفي الكافي: ولاتلبي جهرًا لأن صوتها عورة،ومشى عليه في المحيط في باب الأذان بحر.(ردالمحتار علی الدرالمختار،كتاب الصلاة،باب شروط الصلاة،مطلب في ستر العورة، ج:1، ص:406)
اعلم أنه لما كان الرجال يهيجهم النظر إلى النساء على عشقهن والتوله بهن، ويفعل بالنساء مثل ذلك، وكان كثيرا ما يكون ذلك سببا لأن يبتغي قضاء الشهوة منهن على غير السنة الراشدة، كإتباع من هي في عصمة غيره،أو بلا نكاح، أو غير اعتبار كفاءة - والذي شوهد في هذا الباب يغني عما سطر في الدفاتر اقتضت الحكمة أن يسد هذا الباب،ولما كانت الحاجات متنازعةمحوجة إلى المخالطةوجب أن يجعل ذلك على مراتب بحسب الحاجات فشرع النبي صلى الله عليه وسلم وجوها من السنن.أحدها ألا تخرج المرأة من بيتها إلا لحاجة لا تجد منها بدا.قال صلى الله عليه وسلم: "المرأة عورة فإذا خرجت استشرفها الشيطان ".(حجة الله البالغة،ج: 2،ص: 193)