بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
بیوی کو " اگر تم فلاں کام کرو گی تو تم پر ایک طلاق، دو طلاق، تین طلاق واقع ہو جائیں گی"کہنا
سوال
میرا نام محمد عبداللہ ہے۔ میں شادی شدہ ہوں۔ تقریباً تین سال قبل ایک موقع پر میں نے اپنی اہلیہ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے تھے:"اگر تم فلاں کام کرو گی تو تم پر ایک طلاق، دو طلاق، تین طلاق واقع ہو جائیں گی"۔ واضح رہے کہ جس کام کو میں نے شرط کے طور پر ذکر کیا تھا، میری اہلیہ نے وہ کام انجام نہیں دیا۔ ایسی صورتِ حال میں شرعی اعتبار سے مذکورہ الفاظ کی بنا پر کوئی طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح اور صریح فتویٰ عنایت فرما کر مجھے دینی رہنمائی عطا فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین جزا عطا فرمائے۔ آمین۔
جواب
واضح رہے کہ جب طلاق کسی شرط کے ساتھ معلق ہو،توجب بھی وہ شرط پوری ہوجائے،تب طلاق واقع ہوگی اورشرط پوری نہ ہونے کی صورت میں طلاق واقع نہ ہوگی۔
صورت مسئولہ کے مطابق شوہر کا اپنی بیوی کو یہ کہنا کہ :" اگر تم فلاں کام کرو گی تو تم پر ایک طلاق، دو طلاق، تین طلاق واقع ہو جائیں گی" اگراس کے بعدبیوی نے وہ کام سرانجام نہیں دیا ہےتو شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق" .(الفتاوى الهندية، الفصل الثالث في تعليق الطلاق، ج:1، ص:457)