بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

نقد سونا خرید کر قسطوں پر منافع کے ساتھ بیچنا


سوال

نقد سونا خرید کر قسطوں پر منافع کے ساتھ بیچنا

جواب

واضح رہے کہ جن دو چیزوں کی جنس مختلف ہوتوان کی آپس میں خرید وفروخت کمی بیشی یا ادھارکے ساتھ کرنا شرعاً جائز ہے، نیز قسط وار بیع میں زیادہ قیمت کے عوض اشیا فروخت کرنے میں بھی شرعاً کوئی مضائقہ نہیں۔

لہٰذا صورت مسؤلہ میں سونے کونقداً خرید کرمنافع کے ساتھ قسط وار بیچنا شرعاً جائز ہےبشرطیکہ سونے پرمجلس عقد میں ہی قبضہ کیا جائے اوراس شخص کے علاوہ کسی اور پرفروخت کیاجائے جس سے نقداً خریدا گیا ہے۔

 

قال وإذا عدم الوصفان الجنس والمعنى المضموم إليه حل التفاضل والنساء لعدم العلة المحرمة. (الهداية، كتاب البيوع، باب الربو، ج:5،ص:177)

لأن للأجل شبها بالمبيع ألا يرى أنه يزاد في الثمن لأجل الأجل. (الهداية، كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، ج:5،ص:161)

إذا اشترى فلوسا بدراهم وليس عند هذا فلوس ولا عند الآخر دراهم ثم إن أحدهما دفع وتفرقا جاز وإن لم ينقد واحد منهما حتى تفرقا لم يجز كذا في المحيط.(الفتاوى الهندية، كتاب الصرف، الفصل الثالث، ج:3،ص:209)


فتویٰ نمبر : 4006/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور