بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
رضاعی خالہ سے نکاح کرنا
سوال
ظہور خان کی بیٹی(ثمینہ)نے،صادقہ سےمدت رضاعت میں دودھ پیا ہے۔ اب ثمینہ کا بیٹا محمد کامران صادقہ کی بیٹی (کلثوم) سے نکاح کرنا چاہتا ہےکیا شرعا یہ نکاح جائزہے؟
جواب
شریعت مطہرہ کی روسے آدمی پر رضاعت سے بھی وہ سارے رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں ۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعتاً ثمینہ نے مدت رضاعت کے اندرصادقہ کا دودھ پیا ہوتواب محمد کامران کا نکاح کلثوم سے جائز نہیں،اس لیے کہ کلثوم، محمد کامران کی رضاعی خالہ لگتی ہےاور رضاعی خالہ کےساتھ نکاح جائز نہیں، جیسا کہ نسبی خالہ کے ساتھ نکاح جائزنہیں۔
عن علی بن ابی طالب، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن الله حرم من الرضاع ما حرم من النسب"۔(سنن الترمذي،كتاب الرضاع،ج1،ص217)
يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا۔(الفتاوی الهندية،كتاب الرضاع،ج1،ص409)