بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
مغرب کی نماز کا وقت
سوال
مغرب کی نماز کس وقت قضا ہو جاتی ہے، یعنی پشاور میں مغرب کی اذان کی کتنی دیر بعد نماز پڑھ سکتے ہیں، برائے کرم وقت کے مطابق بتا دیجیئے کہ عشاء کے وقت داخل ہونے سے کتنی دیر پہلے تک مغرب پڑھ سکتے ہیں۔ عشاء کے وقت سے 20 منٹ پہلے یا کتنی دیر پہلے تک؟
جواب
مغرب کی نماز کا وقت سورج غروب ہوجانے کے بعد سےشروع ہوجاتاہےاور اس وقت ختم ہوتاہے، جب شفق ابیض غائب ہوجائےیعنی مغرب کی طرف افق پر سورج کے غروب ہونے کےبعد جوسرخی ہوتی ہےوہ بھی ختم ہوجائے، اوراس کے بعد جو سفیدی پھیلتی ہے وہ بھی ختم ہوکر مکمل اندھیراہوجاِئے۔ اس کے فوراً بعد عشاء کی نماز کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔ محققین علماء اورماہرین فن میں سے اکثر کے ہاں شفق ابیض اس وقت غا ئب ہوتا ہے، جب سورج افق سے اٹھارہ درجے نیچےچلا جائے۔ ان اٹھا رہ درجوں کا مجموعی وقت موسم اور علا قہ کی تبد یلی سےمختلف ہوتا رہتا ہے، اس لئے منٹوں میں اس کی مقدار متعین طور پر نہیں بتائی جاسکتی۔ ائمہ مساجداورعوام کو چاہیےکہ مستند ماہرین صحیح اصول پرجو نقشے تیار کرتےہیں، ان کے مطابق اذان وجماعت کا وقت متعین کیا کریں تاکہ نماز جیسا اہم فریضہ بے احتیاطی کی وجہ سے ذمےپر باقی نہ رہے۔
باقی مغرب کی نماز جلدی یعنی سورج غروب ہوتے ہی فوراً پڑھنا افضل ہے، اور بلاعذر تاخیر کرنا مکروہ ہے، البتہ وقت ختم ہونے (شفقِ ابیض) سے پہلے پہلے پڑھنے سے نماز ادا شمار ہوگی۔
ووقت المغرب منه إلى غيبوبة الشفق وهو الحمرة عندهما وبه يفتى …ووقت العشاء والوتر من غروب الشفق إلى الصبح. (الفتاوى الهندية،
كتاب الصلاة، الباب الأول:في المواقيت وما يتصل بها، ج:1، ص:107)
قدمنا قريبا أن التفاوت بين الشفقين بثلاث درج كما بين الفجرين فليحفظ. (رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الصلاة، ج:2، ص:17)
ويستحب تعجيل المغرب لأن تأخيرها مكروه لما فيه من التشبه باليهود. وقال صلى الله عليه وسلم: لا تزال أمتي بخير ما عجلوا المغرب وأخروا العشاء. (الهداية،كتاب الصلاة، باب المواقيت، ج:1، ص:41)