بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
غیر مقسوم ترکہ میں زکوۃ
سوال
اگر مال وراثت تقسیم نہ ہو اور ڈیڑھ سال گزر جائے تو تقسیم سے پہلے1 سال کی زکوٰۃ نکالیں گے یا 2 سال کی؟
جواب
واضح رہے کہ جب کسی شخص کو نصاب کے بقدر مال پر ملک ِتام حاصل ہو جائے یعنی مال اس کی ملکیت میں ہو اور اس میں تصرف کا اختیاربھی حاصل ہو، اور اس پر سال گزر جائے تو ایسی صورت میں اس شخص پر زکوۃ کی ادائیگی واجب ہوجائےگی۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر ترکہ تقسیم نہ ہوا ہو البتہ اس میں تمام ورثا کو تصرف کا اختیارحاصل ہو تو اس پر ملک تام ثابت ہوگا لہذا اگر ورثا کا حصہ بقدر نصاب ہو یا دیگر اموال کے ساتھ مل کر نصاب پوری ہوتی ہو تو زکوۃ واجب ہوگی اور اگر ترکہ بعض ورثا کی تحویل میں ہو اور باقی ورثا کے مطالبہ کرنے کے باوجود بھی تقسیم نہ کرتےہوں اور ان کو تصرف کا اختیار نہ دیتے ہوں تو اس صورت میں جن ورثا کی تحویل میں ترکہ ہو ان پر اپنے حصے کے مطابق زکوۃ ادا کرنا واجب ہے اورجن ورثا کو تصرف کا حق نہیں ان پر تقسیم سے پہلےکچھ لازم نہیں۔
(قال): ولو أن رجلا ورث عن أبيه ألف درهم فأخذها بعد سنين فلا زكاة عليه لما مضى في قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى الآخر وفي قولهما عليه الزكاة لما مضى ففي هذا الرواية جعل الموروث بمنزلة الدين الضعيف مثل الصداق وبدل الخلع. (المبسوط للسرخسي،كتاب النوادر الزكاة،ج:3،ص:41)
وأما سائر الديون المقر بها فهي على ثلاث مراتب عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى ضعيف وهو كل دين ملكه بغير فعله لا بدلا عن شيء نحو الميراث.الفتاوى الهندية،كتاب الزكاة،ج:1،ص:236)
ومنها الملك التام وهو ما اجتمع فيه الملك واليد وأما إذا وجد الملك دون اليد كالصداق قبل القبض أو وجد اليد دون الملك كملك المكاتب والمديون لا تجب فيه الزكاة. (الفتاوى الهندية،كتاب الزكاة ،ج:1،ص:233)