بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مصنوعی دانتوں کا حکم اور میت کے مصنوعی دانتوں کا نکالنا


سوال

جب اصلی دانتوں میں سے دو چار ٹوٹ جائیں یا کیڑے کھا جائیں یا ٹیڑھے ہو جائیں تو آدمی ان کی جگہ اور فکس دانت لگواتا ہے۔ اور وہ پھر اپنے ذاتی دانتوں کی طرح مضبوط ہوجاتے ہیں۔ ان کے لگوانے کا کیا حکم ہے؟ اور وفات کے بعد ان کا دوبارہ نکالنا ضروری ہے یا نہیں؟

جواب

ضرورت کی وجہ سے مصنوعی دانت لگوانا جائز ہے، اور مصنوعی دانت لگانے کے بعد اگر وہ آسانی سے الگ نہ ہوسکتا ہو تو غسل میں اس کو اتارنا ضروری نہیں ہوگا، اور اگر آسانی سے الگ ہوسکتا ہو تو غسل کے لیے اس کو نکالنا ضروری ہوگا۔

اگر میت کے منہ سے مصنوعی دانتوں کا نکالنا مشکل ہو اور نکالنے میں میت کی بے حرمتی ہو تو منہ کے اندر ہی چھوڑ دیے جائیں، غسل اور دفن میں کوئی حرج نہیں ہوگا، خاص طور پر اگر مصنوعی دانت فکس ہیں تو ان کے نکالنے کی ضرورت نہیں۔

 

لما قال الكرخي: إذا سقطت ثنية رجل فإن أبا حنيفة يكره أن يعيدها، ويشدها بفضة أو ذهب، ويقول: هي كسن ميتة، ولكن يأخذ سن شاة ذكية يشد مكانها، وخالفه أبو يوسف، فقال: لا بأس به، ولايشبه سنّه سنّ ميتة، استحسن ذلك، وبينهما فرق عندي وإن لم يحضرني اهـ إتقان. زاد في التتارخانية: قال بشر: قال أبو يوسف: سألت أبا حنيفة عن ذلك في مجلس آخر فلم ير بإعادتها بأسًا۔ (رد المحتار على الدرالمختار، ج:6، ص:362)


فتویٰ نمبر : 6572/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور