بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

زم زم کے پانی سے وضو اور غسل کرنا


سوال

زم زم کے پانی سے وضو اور غسل کرنے کا حکم کیا ہے؟

جواب

جو شخص باوضو اور پاک ہو، وہ اگر محض برکت کے لیے آبِ زمزم سے وضو یا غسل کرے تو جائز ہے۔  لیکن بے وضو آدمی کا زمزم پانی سے وضو کرنا یا کسی جنبی کا اس سے غسل کرنا مکروہ ہے۔ جب کہ دوسرا پانی موجود ہو لیکن اگر دوسرا پانی نہ ہو تو پھر گنجائش ہوگی، زمزم نہایت متبرک پانی ہے، اس کا ادب ضروری ہے، اس کا پینا برکت کا باعث ہے، اور چہرے پر، سر پر اور بدن پر ڈالنا بھی موجبِ برکت ہے، لیکن نجاست زائل کرنے کے لیے اس کو استعمال کرنا درست نہیں۔

 

يكره الاستنجاء بماء زمزم لا الاغتسال (قوله يكره الاستنجاء بماء زمزم) ازالة النجاسة الحقيقية من ثوبه أو بدنه حتى ذكربعض العلماء تحريم ذلك. (رد المحتار على الدر المختار، باب الھدی، مطلب في الاستنجاء بماء زمزم، ج: 2، ص: 625)


فتویٰ نمبر : 10838/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور