بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تحری اور آلات رصد سے قبلہ کا تعین


سوال

اگر کوئی شخص ایسی جگہ موجود ہو جہاں قبلہ کا تعین کرنے کا کوئی واضح ذریعہ نہ ہو، تو ایسی صورت میں وہ اجتہاد (تحرّی) کے ذریعے قبلہ کا اندازہ لگائے گا۔ اب اگر اس کے اجتہاد کے مطابق ایک سمت قبلہ قرار پاتی ہے، لیکن اس کے پاس موجود قطب نما (کمپاس) اس سے بالکل مخالف سمت کی نشاندہی کر رہا ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے:کیا وہ شخص اجتہاد (تحرّی) سے حاصل شدہ سمت کی طرف نماز پڑھے گا، یا قطب نما سے معلوم شدہ سمت کی طرف، جب کہ دونوں سمتیں ایک دوسرے کی مخالف ہوں؟ اس صورت میں راہنمائی درکار ہے کہ شریعت کی روشنی میں کونسی سمت اختیار کرنا درست ہو گا؟

جواب

واضح رہے کہ تحری یہ ہے کہ کسی چیز میں پیدا ہونے والے اشتباہ میں اپنے گمان کے ذریعے ایک پہلو کو ترجیح دی جائے، نیز سمت قبلہ کے سلسلے میں تحری اس وقت کی جاتی ہے جب بالکل یقین یا غلبہ طن نہ ہو اور اگر قابل اعتماد ذرائع سے سمت قبلہ معلوم ہو سکتی ہوتو پھر وہ تحری سے مقدم  ہے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص ایسی جگہ موجود ہوجہاں قبلہ کا تعین کرنے کا کوئی واضح ذریعہ نہ ہو تو ایسی صورت میں اگر اس نے اپنے اجتہاد کے مطابق ایک سمت قبلہ کو متعین کر دیا لیکن اس کے پاس موجود قطب نما (کمپاس) اس سے بالکل مخالف سمت کی نشاندہی کر رہا ہوتو چونکہ کمپاس  قبلہ معلوم کرنے میں قابل اعتماد آلہ شمار ہوتا ہے اس وجہ سے جو سمت قبلہ کمپاس سے معلوم ہو وہ تحری سے مقدم ہوگا، لہذا ایسی صورت میں کمپاس سے معلوم شدہ سمت قبلہ کی طرف نمازپڑھنی چاہیے۔‌

 

فينبغي ‌الاعتماد ‌في ‌أوقات ‌الصلاة وفي القبلة، على ما ذكره العلماء الثقات في كتب المواقيت، وعلى ما وضعوه لها من الآلات كالربع والأسطرلاب فإنها إن لم تفد اليقين تفد غلبة الظن للعالم بها، وغلبة الظن كافية في ذلك. (رد المحتار على الدرالمختار،كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، مطلب في ستر العورة، ج:1، ص:431)

التحري:طلب أحرى الأمرين وأولاهما. (كتاب التعريفات للجرجاني،التاء،التحري، ص:40)

وإن اشتبهت عليه القبلة وليس بحضرته من يسأله عنها اجتهد وصلى. كذا في الهداية.فإن علم أنه أخطأ بعدما صلى لا يعيدها وإن علم وهو في الصلاة استدار إلى القبلة وبنى عليها. كذا في الزاهدي وإذا كان بحضرته من يسأله عنها وهو من أهل المكان عالم بالقبلة فلا يجوز له التحري. كذا في التبيين.ولو كان بحضرته من يسأله عنها فلم يسأله وتحرى وصلى فإن أصاب القبلة جاز وإلا فلا. (الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب الثالث في استقبال القبلة، ج:1، ص:64)

‌وقيد ‌بالتحري؛ لأن من صلى ممن اشتبهت عليه بلا تحر فعليه الإعادة. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج:1، ص303)


فتویٰ نمبر : 10827/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور