بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
دھماکے میں پولیس اہلکار شہید ہونے کا حکم
سوال
دوران ڈیوٹی جو پولیس اہلکار دھماکے یا کسی اور طریقے سے مارا جائے تو کیا وہ شہید کے حکم میں ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ شہید کی دو قسمیں ہیں،حقیقی اور حکمی۔ حقیقی شہید وہ کہلاتا ہے جسے میدان جہاد میں کافروں نے قتل کر دیا ہو یا معرکہ جنگ میں پایا جائے اور اس پر زخم کا نشان ہو یا معرکہ جنگ کے بغیر اسے ظلما قتل کر دیا گیا ہو۔اس پر شہید کے دنیوی احکامات لاگو ہوتے ہیں چنانچہ اس کو غسل وکفن نہیں دیا جاتا اور نماز جنازہ پڑھ کر انہی کپڑوں میں دفن کردیا جاتا ہے جس میں شہید ہوا تھا ، بشرطیکہ وہ بغیر علاج ومعالجہ،کھانے،پینے اور وصیت کے موقع پر ہی فوت ہو اہو۔ اور حکمی شہید وہ کہلاتا ہےجس کے بارے میں احادیث میں شہادت کی بشارت وارد ہوئی ہو،لیکن اس پر حقیقی شہید کی تعریف صادق نہ آتی ہو ایسا شخص آخرت میں شہیدوں کی فہرست میں شمار کیا جائے گا البتہ دنیا میں اس پر عام میتوں والے احکام جاری ہوں گےیعنی اس کو غسل دیا جائیگا اور کفن بھی پہنایا جائیگا،ایسے شہداء کی بہت سی قسمیں ہیں جیسے آگ سے جل کر یا پانی میں ڈوب کر یا کسی جگہ سے گر کر مر جانے والا وغیرہ ۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کوئی پولیس اہلکار نامعلوم افراد کے ہاتھوں مارا جائےیا بم دھماکے میں مارا جائے وہ ناحق اور ظلما مارا جاتا ہے،لہذا اگر وہ اسی موقع پر فوت ہوجائےیعنی زندہ حالت میں وہاں سے منتقل نہ کیا گیا ہو تو اس پر شہید حقیقی کے احکامات جاری ہوں گے۔اور اگر زندہ حالت میں منتقل کیا گیا اور بعد میں فوت ہوا تو اُخروی اعتبار سے شہید ہوگا لیکن دُنیا میں اس پر شہید کے احکام جاری نہیں ہوں گے۔ یعنی اسے غسل دیا جائے گا اور کفن بھی پہنایاجائے گا۔
الشهيدمن قتله المشركون أو وجد في المعركة وبه أثر أو قتله المسلمون ظلما.(الهداية،كتاب الصلاة،باب الشهيد،ج:1،ص:92)
وكل ذلك في الشهيد الكامل، وإلا فالمرتث شهيد الآخرة، وكذا الجنب ونحوه، ومن قصد العدو فأصاب نفسه، والغريق والحريق والغريب والمهدوم عليه والمبطون والمطعون والنفساء والميت ليلة الجمعة وصاحب ذات الجنب ومن مات وهو يطلب العلم، وقد عدهم السيوطي نحو الثلاثين .(قوله: في الشهيد الكامل) وهو شهيد الدنيا والآخرة، وشهادة الدنيا بعدم الغسل إلا لنجاسة أصابته غير دمه كما في أبي السعود، وشهادة الآخرة بنيل الثواب الموعود للشهيد. أفاده في البحر.(ردالمحتارعلی الدر المختار،کتاب الصلاة،باب الشهيد،ج:2،ص:252)
ولو نزل عليه اللصوص ليلا في المصر فقتل بسلاح، أو غيره، أو قتله قطاع الطريق خارج المصر بسلاح، أو غيره فهو شهيد؛ لأن القتيل لم يخلف في هذه المواضع بدلا هو مال. ولو قتل في المصر نهارا بسلاح ظلما بأن قتل بحديدة، أو ما يشبه الحديدة كالنحاس، والصفر،وما أشبه ذلك، أوما يعمل عمل الحديد من جرح، أو قطع، أو طعن بأن قتله بزجاجة، أو بليطة قصب، أو طعنه برمح لازج له،أورماه بنشابة لانصل لها،أوأحرقه بالنار،وفي الجملة كل قتل يتعلق به وجوب القصاص فالقتيل شهيد.(بدائع الصنائع،كتاب الصلاة،فصل في الشهيد وحكمه،ج:2،ص:360)