بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
ریال قرض لے کر اس کی بجائے پاکستانی روپے واپس دینا
سوال
زید نے بکر سے 50000 پاکستانی روپے قرض مانگ لئے۔ بکر نے اس کو 1000 سعودی ریال دئیے، اور ساتھ میں یہ کہا کہ میرے پاس تو پاکستانی روپے نہیں ہیں یہ ریال لے کے مارکیٹ میں ایکسچینج کرا لو۔ زید نے وہی 1000 ریال لیکر مارکیٹ میں پاکستانی کرنسی کے ساتھ تبادلہ کرا دیا۔ جس سے 30000 پاکستانی روپے بنے۔ پھر زید نے واپس آکر بکر کو وہ پیسے دکھا کر کہا کہ اس سے 30000 روپے بن گئے۔ چونکہ یہ واقعہ چند سال پہلے کا ہے، آج کل ریال بہت مہنگا ہو چکا ہے، اب زید کہتا ہے کہ میں وہی تیس ہزار روپے واپس کروں گا اور بکر کہہ رہا ہے مجھے وہی ایک ہزار ریال یا اس کی موجودہ قیمت دو گے۔ اس لئے اب پوچھنا یہ ہے کہ ازروئے شریعت زید پر وہی 1000 ریال واپس کرنے ہوں گے یا وہی تیس ہزار پاکستانی روپے ادا کرنے ہوں گے یا ریال کی آج کل کی موجودہ قیمت کے اعتبار ادا کرنے ہوں گے؟
جواب
شریعت مطہرہ میں قرض دینا احسان کا معاملہ ہے اس پر کسی قسم کا مشروط یا منافع حاصل کرنا سود کے زمرے میں آتا ہے جو کہ جائز نہیں، فقہاے کرامؒ کے بیان کردہ اصول کے مطابق قرض کی واپسی اس کے مثل سے کی جائی گی لہٰذا جو کرنسی قرض لی گئی ہو وہی کرنسی اسی مقدار میں واپس کرنا ضروری ہوگا۔
صورت مسئولہ میں بکر نے زید کو 1000 ریال قرض دئیے تو اگر چہ ریال کی قیمت بڑھ چکی ہے لیکن پھر بھی شرعاً مقروض پر 1000 ریال واپس کرنا لازم ہے۔
هو عقد مخصوص يرد على دفع مال مثلي لآخر ليرد مثله (تنویر الأبصار، كتاب البيوع، فصل في القرض، ج:5، ص:161)
الديون تقضى بأمثالها. (الهداية في شرح بداية المبتدي،باب الوكالة بالخصومة والقبض، ج:3، ص:149)
في رجل استقرض من آخر مبلغا من الدراهم وتصرف بها ثم غلا سعرها فهل عليه رد مثلها؟ نعم ولا ينظر إلى غلاء الدراهم ورخصها (تنقيح الحامدية، باب القرض، ج:1، ص:279)
وإن استقرض دانق فلوس أو نصف درهم فلوس، ثم رخصت أو غلت لم يكن عليه إلا مثل عدد الذي أخذه. (رد المحتار، باب المرابحة والتولية، فصل في القرض، ج:5، ص:162)