بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
مدارس کوزکوۃ میں کوئی مادی چیزجیسے گاڑی یا رکشہ وغیرہ دینا
سوال
اگركسی مدرسےوالےکسی کمپنی سے درخواست کریں کہ وہ اپنی سالانہ زکوۃ میں سے ہمیں رکشے دےدے،تواگروہ رکشے دےدےتویہ رکشے کس کی ملکیت شمارہوں گے؟ادارے کےطلبہ وطالبات کی ملکیت ہوں گےجن کی وکالت نامے پررکشے لیےگئےہیں؟مزید وضاحت یہ ہےکہ یہ رکشےزکوۃ کے فنڈ سے دئے جاتے ہیں پھران کوطلبہ وطالبات کے لانے،لےجانےکےکام میں استعمال کیاجاتاہے اورطلبہ سے ان رکشوں کےکل خرچ کے تقریباآدھےسےکچھ زیادہ کرایہ بھی وصول کیاجاتاہےاورپھردوسال کے بعدان رکشوں کوبیچ کراس رقم کومدرسے کےمنتظمين كےفیصلے کے مطابق نئےرکشے لینےمیں یا کسی دوسری جگہ میں استعمال کرلیاجاتاہے،تویہ رکشے جو کمپنی دےدیتی ہےکس کی ملکیت ہوگی؟یااگراس کے علاوہ کوئی دوسری صورت ہے جس میں ان کی زکوۃ بھی اداہوجائے اورادارے کوبھی فائدہ ہوجائے؟
جواب
واضح رہے کہ زکوۃ کی ادائیگی میں کسی مستحق شخص کومالک بناناشرط ہےنیزیہ بھی یاد رہے کہ زکوۃ اداکرنے کے لئےکسی کووکیل بنانابھی جائز ہےاوراس طرح زکوۃ قبول کرنے کےلئےبھی کسی کووکیل بنایاجاسکتا ہے۔ دینی مدارس اورجامعات کےمنتظمین یامہتممین مستحق طلبہ کے طرف سے وکیل بن سکتے ہیں اوراس طرح زکوۃ دہندگان کے طرف سےبھی وكيل بن سکتے ہیں لیکن محتاط رائےکےمطابق مہتمم/ناظم مدرسہ زکوۃ دہندہ کی طرف سے وکیل ہوتاہے جیسا کہ جامعہ عثمانیہ کی رائے بھی یہی ہے۔
اگرمہتمم/ناظم طلبہ کی طرف سے وکیل ہوتواس صورت میں معاملہ آسان ہےزکوۃ کی رقم یامادی چیز کو قبول کرکےمدرسے کووقف کردےگاجیساکہ عام طورپرداخلے کے وقت طلبہ سے توکیل/وکالت نامے پردستخط لیاجاتاہےاوراگرزکوۃ دہندہ کے طرف سے وکیل ہوجیسا کہ ہماری رائے بھی یہی ہےتواس میں تملیک کےلیےکئی مشکلات پیش ہوتے ہیں اگرنقد رقم ہوتوطلبہ سےتملیک کروائےاوراگرمادی چیزمثلارکشہ یا گاڑی وغیرہ ہوتواس میں چونکہ طلبہ سے تملیک کروانا مشکل ہوتاہے کیونکہ طلبہ اپنی مرضی سے یہ گاڑی وغیرہ مدرسے کو وقف کرنے کے لیےتیارنہیں ہوتے،اس لیے بہتر صورت یہ ہے کہ مدرسے والےیہ مادی چیزمدرسے کی ضروریات کے لیے زکوۃ دہندہ سے خرید لیں اورپھرمدرسہ جتنی مقدارمیں زکوۃ دہندہ کی مقروض بن جائےتوزکوۃ دہندہ اتنی رقم میں ناظم /مہتمم مدرسہ کوزکوۃ کی ادائیگی کا وکیل بنا دےاوروہ مستحق طلبہ سے تملیک کروائےاس کے بعد طلبہ اپنی مرضی یہ رقم مدرسے کو وقف کرناچاہےتوکرسکتے ہیں یایہ رقم ان سے اخراجات کی مد میں بھی وصول کی جاسکتی ہے۔
ولا يجوز قبض الأجنبي للفقير البالغ العاقل إلا بتوكيله؛ لأنه لا ولاية له عليه فلا بد من أمره كما في قبض الهبة.( بدائع الصنائع، كتاب الزكاة ، فصل ركن الزكاة، ج:2، ص:39)
ولإن كانت عبادة فهي عبادة مالية تجرى فيها النيابة حتى تتأدى بأداء الوكيل.....، بخلاف العبادات البدنية؛ لأنها لا تجري فيها النيابة.( بدائع الصنائع، كتاب الزكاة، ج:2، ص:4)
واعلم أن أداء الدين عن الدين والعين عن العين وعن الدين يجوز، وأداء الدين عن العين، وعن دين سيقبض لا يجوز.
وحيلة الجواز أن يعطي مديونه الفقير زكاته ثم يأخذها عن دينه، ولو امتنع المديون مد يده وأخذها لكونه ظفر بجنس حقه، فإن مانعه رفعه للقاضي وحيلة التكفين بها التصدق على الفقير ثم هو يكفن فيكون الثواب لهما، وكذا في تعمير المسجد.(الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الزكاة،ص:128)
الأولى أداء الدين عن العين كجعله ما في ذمة مديونه زكاة لماله الحاضر، بخلاف ما إذا أمر فقيرا بقبض دين له على آخر عن زكاة عين عنده فإنه يجوز لأنه عند قبض الفقير يصير عينا فكان عينا عن عين.(ردالمحتار مع الدر المختار، كتاب الزكاة، ج:2، ص: 271)