بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

شرکت میں منافع کی تقسیم


سوال

 زید اورعمرو نے مشترکہ طور پر میڈیسن کا کاروبار شروع کیا ، جب کہ کام صرف عمرو کرتا ہے، اور مال دونوں کا ہے، تو کیا یہ کاروبار شرکت کے قبیل سے ہے یا مضاربت؟ نیز آپس میں منافع کی تقسیم کس طرح ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ جب دو یا زیادہ افراد مشترکہ سرمایہ سے اس طور پر کاروبار شروع کریں کہ منافع ان کے درمیان مشترک ہوں گے، تو یہ شرکت کہلاتی ہے،  خواہ تمام شرکا کام کرتے ہوں یا ایک شریک کام کرتا ہو اور باقی شرکا کا صرف سرمایہ ہو۔

جہاں تک منافع تقسیم کرنے کا تعلق ہے تو معاہدہ کرتے وقت فریقین باہمی رضا مندی سے جو شرح طے کرنا چاہیں، کر سکتے ہیں، البتہ اس بات کی رعایت رکھنا شرعا ضروری ہے کہ تمام منافع شرکا کے درمیان فیصد (مثلا: دونوں شرکا کو پچاس پچاس  فیصد، یا ایک شریک کو ساٹھ اور دوسرے کو چالیس فیصد وغیرہ) کے لحاظ سے تقسیم کرنا طے کیا جائے، کسی شریک کے لیے منافع کا متعین حصہ بطور نفع طے نہ کیا جائے۔نیز اگر کسی شریک کے لیے کام نہ کرنے کی شرط لگائی  جائے ، تو اس کے لیے سرمایہ کاری کی نسبت سے زیادہ منافع مقرر کرنا جائز نہیں ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی زید اور  عمرو نے مشترکہ سرمایہ سے کاروبار شروع کیا ہو تو یہ شرکت ہوگی، اگر چہ کام صرف ایک شریک کرتا ہو۔ نیز عقد کے وقت مندرجہ بالا اصول کی روشنی میں جس طرح منافع کی تقسیم طے کی جائے، اس کے مطابق منافع تقسیم کیے جائیں گے۔

 

ومنها أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة لا معينا فإن عينا عشرة أو مائة أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة. (بدائع الصنائع، كتاب الشركة، فصل في شروط أجزاء هذه الأنواع، ج:7،ص:509)

وإن شرطا العمل على أحدهما فإن شرطاه على الذي شرطا له فضل الربح جاز...وإن شرطاه على أقلهما ربحا لم يجز لأن الذي شرطا له الزيادة ليس له في الزيادة مال ولا عمل ولا ضمان وقد بينا أن الربح لا يستحق إلا بأحد هذه الأشياء الثلاثة. (بدائع الصنائع، كتاب الشركة، فصل في شروط أجزاء هذه الأنواع، ج:7،ص:518)


فتویٰ نمبر : 3986/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور