بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
بچے کی قے (الٹی) کا حکم
سوال
شیرخوار بچے کی الٹی پاک ہے یا ناپاک؟اگر بچہ کپڑوں پر الٹی کردے تو کیا ان کپڑوں میں نماز ہوجائے گی؟
جواب
واضح رہے کہ شیرخوار بچہ قے کردے ،تو اگر قے منہ بھر کر ہو تو اس کا حکم بڑے آدمی کی قے کےانند ہوگا، جسم یا کپڑےپر لگ جائے اور مقدار میں ایک درہم یا ایک درہم سے زائدہو تو اس کا پاک کرنا ضروری ہے، پاک کیے بغیر ان کپڑوں میں نماز نہ ہوگی،البتہ اگر قے منہ بھر کر نہ ہو خواہ بالغ کی ہو یا نابالغ بچے کی تو وہ ناپاک نہیں ہے، نیزاگرشیر خوار بچہ دودھ پینے کے دوران منہ سے ہی دودھ نکال دے تو وہ قے کے حکم میں نہیں ہے۔
(و) ينقضه (قئ ملا فاه) بأن يضبط بتكلف (من مرة)... (أو طعام أو ماء) إذا وصل إلى معدته وإن لم يستقر، وهو نجس مغلظ ولو من صبي ساعة ارتضاعه هو الصحيح لمخالطة النجاسة.( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، كتاب کتاب الطهارة، أركان الوضوء أربعة، ص: 24 )
(وعفا) الشارع (عن قدر درهم) وإن كره تحريما، فيجب غسله، وما دونه تنزيها فيسن، وفوقه مبطل فيفرض، والعبرة لوقت الصلاة لا الاصابة على الاكثر. نهر (وهو مثقال) عشرون قيراطا (في)نجس (كثيف) له جرم (وعرض مقعر الكف) وهو داخل مفاصل أصابع اليد (في رقيق من مغلظة كعذرة) آدمي،وكذا كل ما خرج منه موجبا لوضوء أو غسل مغلظ.( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، كتاب طهارة، باب الأنجاس، ص: 47 )