بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

سکول میں دعائیہ اشعار پڑھنا


سوال

ہمارے سکول میں ہم روزانہ ایک دعا ہاتھ جوڑ کر پڑتھے ہیں، تو کیا یہ صحیح ہے؟ اور عقائد کے خلاف تو نہیں ہے؟ دعا مندرجہ ذیل ہے،

۱_اتنی شکتی ہمیں دینا داتا، من کا وشواس کمزور ہو نا                         ۲_ہم چلیں نیک رستے پے ہمسے، بھول کر بھی کوئی بھول ہو نا۔

۳_دور اگیان کے ہو اندھیرے، تو ہمیں گیان کی روشنی دے            ۴_ہر برائی سے بچکے رہیں ہم، جتنی بھی دے بھلی زندگی دے

۵_بیر ہو نا کسی کا کسی سے، بھاونا من میں بدلے کی ہو نا                      ۶_ہم چلیں نیک رستے پے ہمسے، بھولکر بھی کوئی بھول ہو نا

۷_اتنی شکتی ہمیں دینا داتا، من کا وشواس کمزور ہو نا                        ۸_ہم نا سوچیں ہمیں کیا ملا ہے، ہم یہ سوچیں کیا کیا ہے ارپن

۹_پھول خوشیوں کے بانٹیں سبھی کو، سبکا جیون ہی بن جائے مدھوون                ۱۰_اپنی کرونا کا جل تو بہا کے، کردے پاون ہر ایک من کا کونا

۱۱_ہم چلیں نیک رستے پے ہمسے، بھولکر بھی کوئی بھول ہو نا              ۱۲_اتنی شکتی ہمیں دینا داتا، من کا وشواس کمزور ہو نا

۱۳_ہر طرف ظلم ہے، بے بسی ہے، سہما سہما سا ہر آدمی ہے              ۱۴_پاپ کا بوجھ بڑھتا ہی جائے، جانے کیسے یہ دھرتی تھمی ہے

۱۵_بوجھ ممتا سے تو یہ اٹھا لے، تیری رچنا کا یہ انت ہو نا                    ۱۶_ہم چلیں نیک رستے پے ہمسے، بھول کر بھی کوئی بھول ہو نا

۱۷_اتنی شکتی ہمیں دینا داتا، من کا وشواس کمزور ہو نا                      ۱۸_ہم اندھیرے میں ہیں روشنی دے، کھو نا دے خود کو ہی دشمنی سے

۱۹_ہم سزا پائیں اپنے کیے کی، موت بھی ہو تو سہ لے خوشی سے         ۲۰_کل جو گزرا ہے پھر سے نا گزرے آنے والا وہ کل ایسا ہو نا

۲۱_ہم چلیں نیک رستے پے ہمسے، بھولکر بھی کوئی بھول ہو نا             ۲۲_اتنی شکتی ہمیں دینا داتا، من کا وشواس کمزور ہو نا

جواب

وہ اشعار جو فی نفسہ مباح ہوں مثلاً ایسے اشعار جو حکمت و دانائی کی باتوں پر مشتمل ہوں توان کا  پڑھنا اور سننا جائز ہے، ہاں اگر اشعار ایسے ہوں کہ کفر و شرک یا بے حیائی کی باتوں پر مشتمل ہوں یا ان سے دینی اقدار کی عظمت مجروح ہوتی ہوتو ان کا پڑھنااور سننا ناجائز ہے۔ 

صورت مسئولہ کے مطابق مذکورہ دعا ئیہ اشعارکا معنی اور مفہوم جو ہم نے سمجھا ہے اور ذیل میں درج ہےاگر ان اشعار کا معنی ومقصد واقعی یہی ہو تو ان میں چونکہ اخلاقیات کی ترغیب اور دینی اقدار کی ترویج یا دوسری جائز چیزوں کی طرف دعوت ہے۔ اس لئے اس میں کوئی حرج نہیں کہ یہ اشعار پڑھے جائیں اور بچوں سے یاد کروائے جائیں۔ 

 

                                  الفاظ

                                                   ترجمہ

اتنی شکتی ہمیں دینا داتا، من کا وشواس کمزور ہو نا

اے دینے والے! ہمیں اتنی طاقت عطا فرماکہ ہمارے دل کا یقین کبھی کمزور نہ ہو۔

ہم چلیں نیک رستے پے ہمسے، بھولکر بھی کوئی بھول ہو نا۔

ہم ہمیشہ نیکی کے راستے پر چلیں اور ہم سے کبھی بھول کر بھی کوئی خطا نہ ہو۔

دور اگیان کے ہو اندھیرے، تو ہمیں گیان کی روشنی دے

جہالت کے اندھیروں کو ہم سے دور کر دے اور ہمیں علم و آگہی کی روشنی عطافرما۔

ہر برائی سے بچکے رہیں ہم، جتنی بھی دے بھلی زندگی دے

ہم ہر برائی سے بچ کر رہیں اور تو ہمیں جتنی بھی زندگی دے، وہ نیک اور بھلی ہو۔

بیر ہو نا کسی کا کسی سے، بھاونا من میں بدلے کی ہو نا

کسی کے دل میں کسی کے لیے دشمنی نہ ہو اور نہ ہی دلوں میں بدلے کی کوئی خواہش ہو۔

ہم چلیں نیک رستے پے ہمسے، بھولکر بھی کوئی بھول ہو نا

ہم نیکی کے راستے پر چلتے رہیں اور ہم سے کبھی بھول کر بھی کوئی غلطی نہ ہو۔

اتنی شکتی ہمیں دینا داتا، من کا وشواس کمزور ہو نا

اے دینے والے! ہمیں اتنی طاقت عطا فرما کہ ہمارے دل کا یقین کمزور نہ پڑے۔

ہم نا سوچیں ہمیں کیا ملا ہے، ہم یہ سوچیں کیا کیا ہے ارپن

ہم یہ نہ سوچیں کہ ہمیں کیا ملا ہے بلکہ یہ سوچیں کہ ہم نے کیا قربان کیا ہے۔

پھول خوشیوں کے بانٹیں سبھی کو، سبکا جیون ہی بن جائے مدھوون

ہم خوشیوں کے پھول سب میں بانٹیں تاکہ سب کی زندگی ایک سرسبز باغ بن جائے۔

اپنی کرونا کا جل تو بہا کے، کردے پاون ہر ایک من کا کونا

اپنی رحمت کے چشمے بہا دے اور ہر دل کے ہر کونے کو پاک کر دے۔

ہم چلیں نیک رستے پے ہمسے، بھولکر بھی کوئی بھول ہو نا

ہم نیکی کے راستے پر چلتے رہیں اور ہم سے کبھی بھول کر بھی کوئی خطا نہ ہو۔

اتنی شکتی ہمیں دینا داتا، من کا وشواس کمزور ہو نا

اے دینے والے! ہمیں اتنی طاقت عطا فرماکہ ہمارے دل کا یقین کمزور نہ ہو۔

ہر طرف ظلم ہے، بے بسی ہے، سہما سہما سا ہر آدمی ہے

ہر طرف ظلم ہے، بے بسی چھائی ہوئی ہےہر انسان خوف اور سہمے ہوئے حال میں ہے۔

پاپ کا بوجھ بڑھتا ہی جائے، جانے کیسے یہ دھرتی تھمی ہے

گناہوں کا بوجھ بڑھتا ہی جا رہا ہے نہ جانے یہ زمین اسے کیسے سنبھالے ہوئے ہے۔

بوجھ ممتا سے تو یہ اٹھا لے، تیری رچنا کا یہ انت ہو نا

تو اپنی شفقت سے اس بوجھ کو اٹھا لے کہ تیری بنائی ہوئی اس دنیا کا خاتمہ نہ ہو۔

ہم چلیں نیک رستے پے ہمسے، بھول کر بھی کوئی بھول ہو نا

ہم نیکی کے راستے پر چلتے رہیں اور ہم سے کبھی بھول کر بھی کوئی بھول نہ ہو۔

ہم اندھیرے میں ہیں روشنی دے، کھو نا دے خود کو ہی دشمنی سے

ہم اندھیروں میں ہیں، ہمیں روشنی عطا فرما اور ہمیں دشمنی میں خود کو کھو دینے سے بچا۔

ہم سزا پائیں اپنے کیے کی، موت بھی ہو تو سہ لے خوشی سے

اگر ہمیں اپنے اعمال کی سزا بھی ملے تو موت آئے تب بھی ہم اسے خوش دلی سے قبول کریں۔

کل جو گزرا ہے پھر سے نا گزرے آنے والا وہ کل ایسا ہو نا

جو کل گزر چکا ہے وہ دوبارہ نہ آئے اور آنے والا کل ایسا نہ ہو جیسا وہ تھا۔

ہم چلیں نیک رستے پے ہمسے، بھولکر بھی کوئی بھول ہو نا

ہم نیکی کے راستے پر چلتے رہیں اور ہم سے کبھی بھول کر بھی کوئی خطا نہ ہو۔

اتنی شکتی ہمیں دینا داتا، من کا وشواس کمزور ہو نا

اے دینے والے! ہمیں اتنی طاقت عطا فرما کہ ہمارے دل کا یقین کبھی کمزور نہ ہو۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

قراءة ‌الأشعار ‌إن ‌لم ‌يكن ‌فيها ‌ذكر ‌الفسق ‌والغلام ‌ونحوه ‌لا ‌تكره. وفي الظهيرية: قيل معنى الكراهة في الشعر أن يشغل الإنسان عن الذكر والقراءة وإلا فلا بأس به. (الفتاوى التتارخانية، كتاب الكراهية، ج:18، ص:187)

وقال في تبيين المحارم: واعلم أن ما كان حراما ‌من ‌الشعر ما فيه فحش أو هجو مسلم أو كذب على الله تعالى أو رسوله صلى الله عليه وسلم أو على الصحابة أو تزكية النفس أو الكذب أو التفاخر المذموم، أو القدح في الأنساب. (ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الحظر والإباحة، ج:9، ص:504)


فتویٰ نمبر : 6601/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور