بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
وکیل کا مؤکل کی طرف سے اپنی رقم سے زکوٰۃ ادا کرنا
سوال
اگروکیل مؤکل کی دی ہوئی زکوٰۃ کی رقم کی بجائے اپنی رقم سےمؤکل کی طرف سے زکوٰۃ دے ،پھر مؤکل کی دی ہوئی زکوٰۃ کی رقم سےاپنی رقم وصول کرے ،تو کیا مؤکل کی زکوٰۃاداہوجائے گی یا نہیں؟
جواب
وکیل کے پاس مؤکل کی دی ہوئی زکوٰۃ کی رقم امانت ہوتی ہے ، لہٰذا ا ُسے چاہئے کہ زکوٰۃ کی رقم کواس کے مستحقین تک پہنچا دے ،نیز وہی رقم زکوٰۃ میں دے جو مؤکل نے دی ہو،البتہ زکوٰۃ کی رقم کی ادائیگی میں توکیل کی چند صورتیں ہوسکتی ہیں:اگر مؤکل نے وکیل کو کہا کہ میری طرف سے اتنی مثلاََ دس ہزار روپے زکوٰۃ میں دو ،میں پھر آپ کو دوں گا،تو یہ صورت جائز ہےاوراگر مؤکل نے وکیل کو زکوٰۃ کی رقم دی اور مؤکل نے وکیل کو کہا کہ یہی رقم زکوٰۃ میں دینی ہے ،اس کو تبدیل نہیں کرنا، تووکیل کے لیے اس صورت میں کسی قسم کی تبدیلی کرنا جائز نہیں اوراگر مؤکل نے وکیل کو زکوٰۃ کی رقم دی اور وکیل کو کچھ نہ کہا یعنی مؤکل وکیل کو بعینہ اسی رقم کو زکوٰۃ دینےپر مامور نہ بنائے،تو ضرورت کے وقت وکیل کے لیے اس میں تبدیلی کرکے اپنی رقم سے زکوٰۃ دیناجائز ہے۔
لہٰذصورت مسؤلہ کے مطابق اگر وکیل مؤکل کی دی ہوئی زکوٰۃ کی رقم کی بجائے اپنی رقم سے مؤکل کی طرف سے زکوٰۃ دے ،پھر مؤکل کی دی ہوئی زکوٰۃ کی رقم سے زکوٰۃ وصول کرے ،تو مؤکل کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔
(قوله ولو تصدق إلخ) أي الوكيل بدفع الزكاة إذا أمسك دراهم الموكل ودفع من ماله ليرجع ببدلها في دراهم الموكل صح. (رد المحتارعلی الدرالمختار، کتاب الزکوٰۃ، ج:3، ص:187)