بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مہر کی تحدیداور بلا وجہ طلاق پر جرمانہ


سوال

ہمارے علاقے ضلع اورکزئی میں مہر کی مقدار بہت زیادہ ہوگئی ہے، جس سے عام لوگوں کو نکاح میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ اس تناظر میں چند مشران اور علماء کرام کی مشاورت سے یہ تجویز دی گئی ہےکہ:

 (1) پورے علاقے کے لیے ایک مناسب مہر کی مقدار متعین کی جائے۔

(2)اور اسے تمام نکاحوں میں لازم قرار دیا جائے۔

(3)خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ عائد کیا جائے۔

اسی طرح (4)اگر شوہر بلا وجہ طلاق دے اور شرعاً قصور وار ہو، تو اس پر5لاکھ روپے جرمانہ مقرر کیا جائے۔کیا یہ شریعت کی روسےجا ئز ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ مہر کی کم از کم مقدار دس درہم ہے اور زیادہ کی کوئی تحدید نہیں، لہذا جتنی مقدار پر بھی میاں بیوی راضی ہو جائیں اس کو مہر مقرر کیا جا سکتا ہے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی قوم نے اس بات پر اتفاق کیا ہو کہ مہر کے لیےایک متعین مقدارمقررکی جائے ، تو اگر اس کا مقصد حکم شرعی کا تغیر نہ ہو، بلکہ صرف لوگوں کو مشورہ دینا ہو یا انتظامی نوعیت کا فیصلہ ہو، تاکہ لوگوں کو نکاح کرنے میں آسانی ہو، تو شر عا اس کی گنجائش ہے، تاہم اگر اس کا مقصد شرعی پابندی لگاناہو تو کسی کو اس کا اختیار حاصل نہیں ۔نیز طلاق دینے پر جُرمانے کی شرط لگانا،طلاق کے مقصدِ مشروعیت کے خلاف ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ،شریعت نے طلاق کو اس لیے مشروع کیا ہے کہ اگر زوجین کا آپس میں نباہ ممکن نہ ہو رہےہو تو معاملات کی مزید خرابی  سے پہلے،آدمی اس عورت کو عزت کے ساتھ رخصت کردے،اس علیحدگی پر جرمانہ لازم کرنادرست نہیں ،کیوں کہ اگر آدمی کے پاس اس جرمانے کی استطاعت نہ ہو تو وہ اس عورت کو اپنے پاس رکھنے پر مجبور ہوگا،اور یوں نہ اس کے حقوق ادا کرے گااور نہ ہی اس کو علیحدہ کرے گا،اس لیے ایسی شرط لگانا جائز نہیں ۔

 

حدثنا أبو خيثمة، حدثنا يعقوب بن إبراهيم، حدثنا أبي، عن ابن إسحاق قال: حدثني محمد بن عبد الرحمن، عن مجالد بن سعيد، عن الشعبي، عن مسروق قال: ركب عمر بن الخطاب منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال: أيها الناس ما إكثاركم في صداق النساء وقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه، وإنما الصدقات فيما بينهم أربع مائة درهم فما دون ذلك، فلو كان الإكثار في ذلك تقوى عند الله عز وجل أو مكرمة لم تسبقوهم فلا أعرفن ما زاد رجل صداق على أربع مائة درهم.

قال: ثم نزل فاعترضته امرأة من قريش فقالت: يا أمير المؤمنين نهيت الناس أن يزيدوا النساء في صدقاتهن على أربع مائة درهم؟ قال: نعم.قالت: أما سمعت ما أنزل الله عز وجل في القرآن؟ فقال: فأنى ذلك؟ فقال: أما سمعت الله عز وجل يقول: {وآتيتم إحداهن قنطارا فلا تأخذوا منه شيئا أتأخذونه بهتانا وإثما مبينا} [النساء: 20] .فقال: اللهم غفرانك.كل الناس أفقه من عمر.

قال: ثم رجع فركب المنبر فقال: أيها الناس إني قد نهيتكم أن تزيدوا النساء في صدقاتهم على أربعمائة درهم فمن شاء أن يعطي من ماله ما أحب. قال أبو يعلى: وأظنه قال: فمن طابت نفسه فليفعل. (المقصد العلي في زوائد أبي يعلى الموصلي لنورالدين الهيثمي، ج:2،ص:335)

وأقل المهر عشرة دراهم. (الهداية في شرح بداية المبتدي ،ج:3 ، ص:53)

وقد وقع الإجماع على أن المهر لا حد لأكثره بحيث تصير الزيادة على ذلك الحد باطلة للآية. (نيل الأوطار شرح منتقى الأخبار، ج: 6، ص: 201)

‌ولأن ‌شرع ‌الطلاق ‌في ‌الأصل ‌لمكان ‌المصلحة؛ لأن الزوجين قد تختلف أخلاقهما وعند اختلاف الأخلاق لا يبقى النكاح مصلحة؛ لأنه لا يبقى وسيلة إلى المقاصد فتنقلب المصلحة إلى الطلاق ليصل كل واحد منهما إلى زوج يوافقه فيستوفي مصالح النكاح منه.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،کتاب الطلاق،ج:3،ص:112)


فتویٰ نمبر : 7333/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور