بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
معمول کی تلاوت میں سورت کہف پڑھنا
سوال
ایک شخص کا روزانہ دو سپارے پڑھنے کا معمول ہے، اور اس کے ساتھ سورۂ یٰسین، سورۂ واقعہ، سورۂ الملک اور جمعہ کے دن سورۂ کہف کی بھی تلاوت کرتا ہے۔ دو پارے جن میں سورۂ کہف بھی آتی ہے، اس کے پڑھنے سے جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھنے کی فضیلت حاصل ہو جائے گی یا اُس کو یہ سورت دوبارہ پڑھنی پڑے گی؟ یا جو تلاوت اس نے کی ہے وہ کافی ہوگی۔ اس طرح اور سورتوں کی بھی یہی صورت ہے؟
جواب
واضح رہےکہ احادیثِ مبارکہ میں مختلف سورتوں کے فضائل بیان ہوئے ہیں لیکن ان روایات میں مستقلاً کسی سورت کے پڑھنے کی قید نہیں بلکہ اس کی تلاوت کرنا مقصود ہے ۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص معمول کی تلاوت میں سورۂ کہف پڑھے یا علیحدہ طور پر جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھنے کا اہتمام کرے دونوں صورتوں میں سورہ کہف پڑھنے کی فضیلت اسے حاصل ہوجائے گی اور یہی حکم باقی سورتوں کا بھی ہے،یعنی ایک بار پڑھنے سے فضیلت حاصل ہوجاتی ہے ۔
عن أبي سعيد الخدري قال: من قرأ سورة الكهف ليلة الجمعة أضاء له من النور فيما بينه وبين البيت العتيق.(مسندالدارمي،باب في فضل سورةالكهف،رقم الحديث 3610،ج:2،ص: 1081)
عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إن سورة في القرآن ثلاثون آية، شفعت لصاحبها حتى غفر له: {تبارك الذي بيده الملك}(سنن ابن ماجه، رقم الحديث3786، باب ثواب القرآن،ج:3، ص:803)
عن عطاء بن أبي رباح، قال: بلغني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من قرأ يس في صدر النهار، قضيت حوائجه۔
(مسند الدارمى، رقم الحديث3461، باب في فضل يس،ج:3، ص:2150)
عن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من قرأ سورة الواقعة في كل ليلة لم يصبه فاقة أبدا.(شعب الإيمان رقم الحديث2499، ج:2، ص: 492)