بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

سفر اور حضر میں قضا شدہ نمازوں کی تعداد یاد نہ ہونا


سوال

اگر کسی شخص سے سفر اور حضر میں کئی نمازیں قضا ہوچکی ہوں اور اسے یہ بھی یاد نہ ہو کہ ان میں سفر اور حضر میں کتنی کتنی نمازیں قضا ہوئی ہیں؟ تو ایسے شخص کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

جاننا چاہیےکہ اگر کسی شخص سے سفر اور حضر میں کئی نمازیں قضا ہوچکی ہوں اور اسے یہ بھی یاد نہ ہو کہ ان میں سفر اور حضر میں کتنی نمازیں قضا ہوئی ہیں تو ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ اپنی فوت شدہ نمازوں کی تعداد کا ظنِ غالب یعنی غالب گمان کے ساتھ ایک محتاط اندازہ لگالے، اور پھر اس میں سے سفر اور حضر کی نمازوں کی تعیین بھی ظنِ غالب سے کرلے، اور اس کے بعد ان نمازوں کی قضا پڑھنا  شروع کردے، اور اگر اس تعداد میں کچھ نمازوں کا اضافہ کردے تو اس میں احتیاط ہے، نیز اگر اس کا کوئی غالب گمان نہ ہو تو وہ فوت شدہ  نمازوں کی قضا کیا کرے یہاں تک کہ اسے یہ یقین ہوجائے کہ ابھی اس پر فوت شدہ نمازوں میں  سے کوئی نمازبھی  باقی نہیں ۔

 

أما تفسيره ‌فهو ‌عبارة ‌عن ‌طلب ‌الشيء ‌بغالب ‌الرأي عند تعذر الوقوف على حقيقته كذا في المبسوط. وأما ركنه فهو طلب الصواب بقلبه لأن التحري يقوم به وأما شرط جوازه ففقد سائر الأدلة حالة اشتباه المطلوب لأن التحري إنما جعل حجة حال الاشتباه وفقد الأدلة لضرورة عجزه عن الوصول إليه. وأما حكمه فوقوع العمل صوابا في الشرع .( الفتاوى الهندية، كتاب التحري، باب في تفسير التحري وبيان ركنه وشرطه وحكمه، ج: 5، ص: 382 )

خاتمة ‌من ‌لا ‌يدري ‌كمية ‌الفوائت يعمل بأكبر رأيه فإن لم يكن له رأي يقض حتى يتيقن أنه لم يبق عليه شيء. ( حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ص: 447 )


فتویٰ نمبر : 10819/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور