بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

سلائی کے بعد باقی ماندہ کپڑے کاحکم


سوال

 ہم کپڑوں کی سلائی کا کام کرتے ہیں ہم جب کپڑوں کی سلائی مکمل کرلیتے ہیں توبسا اوقات کچھ کپڑا باقی رہ جاتاہے جس کو ہم کپڑا تیار ہونے کے بعد سلے ہوئے کپڑے کے ساتھ واپس رکھنے کا اہتمام کرتے ہیں لیکن کبھی جلدی میں ہمارے پاس رہ جاتاہے تواس کپڑے کو کسی دوسرے گاہک کے کپڑے میں استعمال کرتے ہیں یا کسی غریب کو دے دیتے ہیں اس باقی ماندہ  کپڑے کا شرعی حکم کیاہے ؟

جواب

جاننا چاہیے کہ اگر کسی کو کوئی چیز ہاتھ لگے اوراس کا مالک معلوم ہوتومالک کو پہنچانا ضروری ہے لیکن اگر مالک معلوم نہ ہو اور وہ چیز قیمتی ہو تو حتی الوسع تشہیر کے بعدبھی اگر مالک معلوم نہ ہوسکے تو اگر خود مستحق زکوۃ ہوتواپنے استعمال میں بھی لاسکتاہے ورنہ اسے صدقہ کرے اوراگر وہ چیز قیمتی نہ ہو تو پھر اپنے یا دوسرے  کے استعمال میں دینے کی گنجائش ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر سلائی کے بعدبچا ہوا کپڑا صرف چھوٹے ٹکرے نہ ہوں بلکہ قابل ِاستعمال مقدار میں ہو تواگر اس کا مالک معلوم ہو تو اسے محفوظ رکھے اور اس تک پہنچا دے اور اگر مالک معلوم نہ ہو تویہ لقطہ کے حکم میں ہوگا لہذا حتی الوسع اس کی  تشہیر کرے اگر  مالک نہ ملے تواگر درزی خود مستحق زکوۃ ہو تواسے خود بھی استعمال کرسکتاہے ورنہ  کسی مستحق زکوۃ کو صدقہ کرےنیز اگر بعد میں مالک آجائے اور کپڑے کا مطالبہ کرے تواس کو اس کی قیمت دینا لازم ہوگا۔

 

وللملتقط أن ينتفع باللقطة بعد التعريف لو فقيرا وإن غنيا تصدق بها ولو على أبويه أو ولده أو زوجته لو فقراء وإن كانت حقيرة كالنوى وقشور الرمان والسنبل بعد الحصاد ينتفع بها بدون تعريف وللمالك أخذها ولا يجب دفع اللقطة إلى مدعيها إلا ببينة ويحل إن بين علامتها من غير جبر.(ملتقى الأبحر، ص:531)

اللقطة (هي) بالفتح وتسكن: اسم وضع للمال الملتقط عيني. وفي التتارخانية عن المضمرات: مال يوجد ولا يعرف مالكه، وليس بمباح كمال الحربي.(رد المحتار على الدرالمختار، ج: 4، ص: 276)


فتویٰ نمبر : 6556/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور