بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
چارمیٹرکےپیسےلےکرگاہک کے ناپ کے مطابق کم کپڑا کاٹنا
سوال
ہماری سلائی کی دکان میں کپڑابھی ہوتاہےاورگاہگ جب کپڑاپسندکرلےتوہم تان میں سے چار میٹر کپڑا کاٹ کر اس کے ناپ کے مطا بق ان میں سے سوٹ سی لیتے ہیں ،بسا اوقات اس کاناپ چارمیٹر سےکم کپڑےمیں آجاتاہےاس لیےہم اس کے ناپ کے مطابق کپڑا کاٹ لیتے ہیں اور اگر کہیں کسی گاہک کا ناپ چار میٹر سے نہ بنتا ہوں تو اس اضافی کپڑے کو اس کے لیے بغیر کسی عوض کے استعمال کر لیتے ہیں ،تو چار میٹر کے پیسے لے کر اس کے ناپ کے مطابق کم کپڑا کاٹ کر سینا شرعا جائز ہے یا نہیں ؟ نیز اگر گاہک کو اس سے باخبر کر دیا جائے تو اس کا کیا حکم ہو گا؟
جواب
واضح رہے کہ اگر گاہک سلائی کی دوکان سے کپڑا بھی خریدتا ہے اور وہاں سے سلائی بھی کرواتا ہے، تو اس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں،پہلی یہ کہ دونوں عقد ایک ساتھ ہوں،کہ مثلا کپڑے اور سلائی دونوں کی قیمت تین ہزار روپےطے ہو،دوسری یہ کہ دونوں عقد الگ الگ ہوں ،مثلا کپڑے کی دو ہزار روپے قیمت طے ہو، اور سلائی کے ایک ہزارروپے، اگر مجموعی طور پر کپڑے اور سلائی دونوں پر عقدمنعقد ہوا ہو،اور کپڑے کی مقدار متعین نہ کی گئی ہو بلکہ گاہک کے ناپ کے مطابق سوٹ سینے کی قیمت مقرر ہوئی ہوتو درزی کےلیےگاہک کے ناپ کے مطابق کم کپڑا کاٹ کر سینا شرعا جائز ہے،لیکن اگر دونوں عقد الگ الگ ہوں اور کپڑے کی مقدار متعین کی گئی ہو تو ایسی صورت میں جس مقدارِمعین سے بیع ہوئی ہے،وہ تمام مقدار خریدار کی ملک ہے، اس لیے اس مقدار میں کمی کرنا جائز نہیں ،البتہ اگرگاہک وہ اپنی اجازت سےباقی کپڑا چھوڑ دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔
لا يجوزلأحد من المسلمين أخذمال أحد بغير سبب شرعي.( رد المحتار، كتاب الحدود، باب التعزير، ج:4، ص:61 )
لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته إلا في مسائل مذكورة في الاشباه.( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، كتاب الغصب، ص:617 )
وهو نوعان استئجار الأجير المشترك والأجير الخاص الذي يسمى أجير الوحد فالأجير المشترك كاسمه الذي يتقبل الأعمال من الناس كالصباغ والقصار ونحوهما، وأجير الوحد كاسمه الذي يعمل للواحد مدة معلومة...فأما الأجير المشترك فلا يكون ضامنا وتكون العين التي في يده أمانة عند أبي حنيفة.( تحفة الفقهاء، كتاب الإجارة، ج:2، ص:352 )