بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

لڑکی کے لیے "اِرم" نام رکھنا


سوال

میری ایک بیٹی ہے جس  کا نام میں نے"اِرم"رکھا ہے، لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ نام صحیح نہیں ہےاس کو بدل دو ،اب مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ لڑکی کے لیے "اِرم " نام رکھنا کیسا ہے؟اور اس کا معنی کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ "اِرَم" کے مختلف معانی ہیں: (1) قوم عاد کا جدِ اعلیٰ (2)  قوم عاد کا شہر (3) بہشت (جنت) جسے شدادِ عاد نے ملکِ صنعاء اور حضرموت کے درمیان بنایا تھا۔فارسی زبان میں اس لفظ کے معنی  بہشت اور جنت کے ہیں،اس کے علاوہ یہ  تباہ شدہ قوم جس کی ایک شاخ عاد اس کو بھی کہتے ہیں۔ 

لہذا بعض معانی کے اعتبار سے یہ نام رکھنا درست ہے، لیکن چونکہ تباہ اور ہلاک شدہ قوموں کے لیے بھی یہ لفظ قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے، اس لیے اس کی بجائے دیگر اچھے اور بامعنی نام رکھے جائیں تو یہ زیادہ بہتر ہے۔

 

(و){إرم} وأرام (كعنب وسحاب: والد عاد الأولى، أو الأخيرة، أو اسم بلدتهم) التي كانوا فيها، (أو أمهم أو قبيلتهم)(و) في التنزيل: {بعاد إرم ذات العماد} ، قال الجوهري: من لم يضف، جعل إرم اسمه ولم يصرفه، لأنه جعل عادا اسم أبيهم، ومن قرأه بالإضافة ولم يصرفه جعله اسم أمهم أو اسم بلدة...إرم صاحب ذات العماد، لأن ذات العماد مدينة،...اختلف فيها، من جعلها مدينة، فمنهم من قال هي أرض كانت واندرست، فهي لا تعرف،...وروى آخرون: أن إرم ذات العماد باليمن بين حضرموت وصنعاء من بناء شداد بن عاد، وذكروا في ذلك خبرا طويلا لم أذكره هنا خشية الملال والإطالة. ( تاج العروس من جواهر القاموس، ‌‌أر م، ج:31، ص:206 )


فتویٰ نمبر : 6557/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور