بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
اللہ تعالی کے نام پر قسم کھانا
سوال
ایک شخص نے اللہ کے نام پرقسم کھائی ہے کہ اگر اس شخص نے میرے دروازے کے سامنے سے اس دیوار کو نہیں ہٹایا تو میں یہاں پر نہیں رہوں گا، لیکن بعد میں صلح ہو جانے کی وجہ سے اس دیوارکے نہ ہٹنے کے باوجود وہ بندہ وہاں پر رہ رہا ہے،تو آیا اس سے وہ حانث ہوگا یا نہیں؟اوراگر حانث ہوا ہے تو کفارے کا کیا حکم ہوگا؟
جواب
جوشخص آئندہ کسی کےفعل کے ساتھ اپنی قسم کومطلقا مشروط کرے،یعنی اس کے لیے کوئی وقت متعین نہ ہو،توجب تک وہ مشروط فعل واقع نہ ہوجائےیا اس فعلِ مشروط کےکرنے والااس فعل سے عاجز نہ ہوجائے،تو قسم کھانے والا حانث نہ ہوگا،اس لیے اس پر کفارہ بھی لازم نہ ہوگا۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق چونکہ قسم کھانے والے نے اپنی قسم کو بھائی کے فعل (دیوار ہٹانے)سےمطلقا مشروط کیا ہے،اس لیے جب تک اس مشروط فعل کے ہونے کا امکان ہو ،تو شرط واقع نہ ہونے کی وجہ سےقسم کھانے والا حانث نہ ہوگا،البتہ اگر وہ (جس کے فعل سے قسم مشروط ہوئی ہے)اس فعل کے کرنے سے عاجز ہوجائے،کہ مثلا: وہ فوت ہوجائے،اور قسم کھانےوالاپھر بھی وہاں پررہ رہا ہوجہاں پر نہ رہنے کی قسم کھائی تھی،تو تب قسم کھانے والا حانث ہوجائے گا، اور اس پرکفارہ لازم ہوگا،اور قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کومتوسط درجہ کا دو وقت کا کھانا کھلانا، یا ان کو متوسط درجہ کے کپڑے پہنانا ، اور اگر ان دونو ں کی وسعت و قدرت نہ ہو تو تین دن مسلسل روزے رکھے گا۔
قال الله تعالى: ﴿ لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمانِكُمْ وَلكِنْ يُؤاخِذُكُمْ بِما عَقَّدْتُمُ الْأَيْمانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعامُ عَشَرَةِ مَساكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ذلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمانِكُمْ إِذا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمانَكُمْ كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آياتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾.( سورة المائدة: 89 )
ومنعقدة، وهو أن يحلف على أمر في المستقبل أن يفعله، أو لا يفعله، وحكمها لزوم الكفارة عند الحنث كذا في الكافي.( الفتاوى الهندية، كتاب الأيمان، الباب الأول في تفسيرها شرعا، وركنها، وشرطها، وحكمها، ج:2، ص:57)
وكفارته تحرير رقبة أو إطعام عشرة مساكين كهما في الظهار أو كسوتهم بما يستر عامة البدن، فإن عجز عن أحدهما صام ثلاثة أيام متتابعة، ولا يكفر قبل الحنث.( كنز الدقائق، كتاب الأيمان، ص:328 )
(قوله وكذا كل يمين مطلقة) أي لا خصوصية للإتيان، بل كل فعل حلف أن يفعله في المستقبل وأطلقه ولم يقيده بوقت لم يحنث حتى يقع اليأس عن البر مثل ليضربن زيدا أو ليعطين فلانة أو ليطلقن زوجته وتحقق اليأس عن البر يكون بفوت أحدهما ولذا قال في غاية البيان: وأصل هذا الحالف في اليمين المطلقة لا يحنث ما دام الحالف والمحلوف عليه قائمين لتصور البر فإذا فات أحدهما فإنه يحنث. اهـ. بحر قال ح وهذا إذا كانت على الإثبات فإن كانت على النفي لا يحنث في آخر حياته ويمكن حنثه حالا كما لا يخفى.(رد المحتارعلی الدرالمختار،ج:3،ص: 757)