بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

گھر بنانے کے لئے رکھے ہوئے سیمنٹ اور ریت پر زکوۃ


سوال

میں نے گھر بنانے کے لئے کچھ سیمنٹ اور ریت لایا تھا، لیکن پھر مجھے فرصت نہ ملنے کی وجہ سے میں گھر نہ بنا سکا، اور اس ریت اور سیمنٹ پرایک سال گزرگیا ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ زکوۃ اس مال پر واجب ہوتی ہے جو مال نامی ہو،یعنی بڑھنے والا ہو، جیسا کہ سونا، چاندی، اموال تجارت وغیرہ، اوراس پرایک سال گزر جائے۔

لہذا مذکورہ صورت میں سائل نے گھرکی تعمیرکے لیےجو سیمنٹ اورریت لایا ہے، اگراس پرسال گزرجائے تواس پرزکوۃ واجب نہیں ہوگی، کیونکہ یہ مال تجارت نہ ہونے کی وجہ سے مال نامی کے زمرے میں نہیں آتا۔

 

(وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه۔۔۔(أو نية التجارة) في العروض، إما صريحا ولا بد من مقارنتها لعقد التجارة۔۔۔(نام ولوتقديرا) بالقدرة على الاستنماء ولو بنائبه.(قوله نام ولو تقديرا)النماء في اللغة بالمد:الزيادة، والقصربالهمزخطأ، يقال:نما المال ينمي نماء وينمونموا وأنماه الله تعالى.وفي الشرع: هونوعان:حقيقي وتقديري؛ فالحقيقي الزيادة بالتوالد والتناسل والتجارات، والتقديري تمكنه من الزيادة بكون المال في يده أو يد نائبه۔(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الزكوة،ج:3،ص:174)


فتویٰ نمبر : 10829/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور