بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

کرایہ داری میں اسٹامپ پیپر فیس اور مشترکہ اخراجات کی ذمہ داری


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی نے گھر کرایہ پر لیا ہو، تو اسٹامپ پیپر کا خرچہ کون ادا کرے گا ؟ نیز محلے کے اجتماعی امور مثلا:ٹرانسفارمرکے مرمت وغیرہ کے لیے  پیسے اکھٹے کئے جاتے ہیں تویہ پیسے مالک مکان اور کرایہ دار میں سے کون ادا کرے گا؟

جواب

واضح رہے کہ اسٹامپ پیپر عا قدین کے درمیان ہونے والے معاہدے کا وثیقہ ہوتا ہے۔ جو بظاہر مالک اور کرایہ دار دونوں کی ضرورت ہے، اگر ابتدا معاہدے میں  یہ طے کیا گیا ہو کہ اسٹامپ کے اخراجات کون ادا کرے  گا، تو پھر وہی فریق اخراجات ادا کرے گا، اوراگر یہ طے نہ ہوا ہو تو پھر عرف وتعامل کا اعتبار ہوگا۔

لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر اسٹامپ پیپر لکھتے وقت اخراجات کی شرط کسی ایک پر لگائی گئی ہو، تو وہی اس کا خرچ دے گا ورنہ عرف کے مطابق ادا کرنا ہوگا، اور محلے کے اجتماعی اخراجات چونکہ کرایہ دار کے نفع کے لیے ہیں، اس لیے یہ خرچہ کرایہ دار ادا کرے گا۔

 

وقال النبي صلى الله عليه وسلم ‌المسلمون ‌عند ‌شروطهم. (صحيح البخاري، باب أجر السمسرة، ج:3، ص:92)

المعروف عرفا كالمشروط شرطا. (مجلة الأحكام العدلية، المادة:43، ص:21)

الغرم بالغنم. (مجلة الأحكام العدلية، المادة: 86، ص:26)

(ومما يتصل بهذا الباب فصل التوابع) والأصل فيه أن الإجارة إذا وقعت على عمل فكل ما كان من توابع ذلك العمل ولم يشترط ذلك في الإجارة على الأجير فالمرجع فيه العرف. كذا في المحيط.(الفتاوى الهندية، كتاب الإجاره، الباب السابع عشر فيما يجب على المستأجر و فيما يجب على الآجر، ج:4، ص:455)


فتویٰ نمبر : 3979/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور