بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مرتكب کبیرہ کے ایمان کا حکم


سوال

ناحق کسی کا مال کھانا،کسی کو قتل کرنا،کسی پر ظلم کرنا اورلوگوں کو تنگ کرنا ظلم ہے کیا ایسا ظالم آدمی ایمان سے خارج متصور کیا جائے گایانہیں اوراس کا آخرت میں کیا انجام ہوگا؟

جواب

واضح رہےکہ شريعت مطہرہ کی روسے کسی شخص کامال ناحق طریقے سےکھانا،کسی کوناحق قتل کرنایا کسی پر ظلم کرنا گناہ کبیرہ ہےلیکن گناہ کبیرہ کے کرنےسے کوئی آدمی ایمان سے خارج نہیں ہوتاالبتہ فاسق ضرور ہوجاتا ہے۔

اگرکوئی شخص مذکورہ محرمات کاارتکاب کرتاہوتواس سے اگرچہ فاسق ہوجاتاہے لیکن ایمان سے خارج نہیں ہوتا،ہاں اگراس کوحلال سمجھ کرکرےتوپھردائرہ اسلام سےخارج ہوتا ہے۔

 

ولا نذكر أحدا من أصحاب رسول الله إلا بخير ولا نكفر مسلما بذنب من الذنوب وإن كانت كبيرة إذا لم يستحلها ولا نزيل عنه اسم الإيمان ونسميه مؤمنا حقيقة ويجوز ان يكون مؤمنا فاسقا غير كافر. (الفقه الأكبر، ‌‌ص:43)

المؤمن لا يخرج عن الإيمان بارتكاب الكبيرة، وإذا مات بغير توبة فهو في مشيئة الله تعالی، إن شاء غفرله، وإن شاء عذّبه بقدر جنايته أو أقلّ، ثم يدخله الجنّة. (الفتاوی السّراجيّة، كتاب الكراهة والاستحسان، ص:308)

لا نكفر أحدا من أهل القبلة بذنب يرتكبه ‌ما ‌لم ‌يستحله، كالزنا والسرقة وشرب الخمر.(الإبانة عن أصول الديانة، ‌‌فصل في إبانة قول أهل الحق والسنة، ص:26)


فتویٰ نمبر : 6559/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور