بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

کیکڑے کی تجارت کا حکم


سوال

کیا کیکڑے کی تجارت یعنی ایکسپورٹ کرنا جائز ہے ؟اور اسی طرح بہت ساری سمندری مچھلیاں ہوتی ہیں جن کاکھانا جائز نہیں ،تو کیا اس کی تجارت جائز ہوگی یا نہیں ؟

جواب

 واضح رہے کہ فقہ حنفی کے رو سے بحری جانوروں میں سے صرف مچھلی حلال  ہےاس کے علاوہ  کوئی بحری جانورحلال نہیں ،  البتہ اگر اس سے کوئی اور فائدہ لینا  ممکن  ہو تو اس کی خرید و فروخت جائز ہوگی۔ اس طرح جو بھی غیر ماکول اللحم جانور نجس العین نہ ہو تو اس کی خرید و فروخت جائز ہوگی۔

صورت مسئولہ  کےمطابق  کیکڑا مچھلی کے اقسام میں سے نہیں ہے  اس لئے اس  کا کھانا  جائز نہیں، اس طرح مچھلی کے علاوہ تمام بحری   جانوروں کا کھانا جائز نہیں البتہ اگر کیکڑے یا دیگر سمندری جانوروں سے  کھانے کے علاوہ اور کوئی فائدہ لینا ممکن ہو جیسے دوائی وغیرہ میں استعمال، تو اس کی خرید و فروخت جائز ہوگی اور مچھلیوں میں سے صرف طافی مچھلی (جو پانی میں خود بخود بغیر کسی سبب کے مر جائے)  حرام ہے۔

 

فالحيوان في الأصل نوعان: نوع يعيش في البحر، ونوع يعيش ‌في ‌البر ‌أما ‌الذي ‌يعيش ‌في ‌البحر فجميع ما في البحر من الحيوان محرم الأكل إلا السمك خاصة فإنه يحل أكله إلا ما طفا منه.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، ج:6، ص:173)

ودواب البحر غير السمك كالضفدع والسرطان، لأن جواز البيع يدور مع حل الانتفاع وحرمة الانتفاع بها، وقال بعضهم: إن بيع الحية يجوز ‌إذا ‌انتفع ‌بها ‌للأدوية، ‌ولا ‌يخفى ‌أن ‌هذه المسألة مستدركة بما مر في البيع الفاسد كما في القهستاني لكن في البحر وبيع غير السمك من دواب البحر إن كان له ثمن كالسقنقور وجلود الخز ونحوها يجوز وإلا فلا.(مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر ج:2، ص: 108)

وبيع غير السمك من دواب البحر، إن كان له ثمن كالسقنقور وجلود الخز ونحوها يجوز، وإلا فلا كالضفدع والسرطان. (رد المحتار على الدر المختار شرح تنوير الأبصارج:7، ص:260)

12805 - والجواب: أن تحريم الأكل لا يدل على تحريم الثمن؛ ‌بدلالة: ‌الآدمي ‌والفهد، ‌وكذا شراء الطير، فلابد أن يكون المراد بالخبر: (إن الله إذا حرم) ما يقصد منه الأكل. 12806 - فإن قيل: إن الله إذا حرم شيئا حرم ثمنه. 12807 - قلنا: أكل الكلب حرام، والثمن ليس بثمن المحرم، إنما هو بدل عن غير المحرم، والانتفاع بها غير محرم. (التجريد للقدوري ج:5، ص:2624)


فتویٰ نمبر : 3999/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور