بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مالک کی اجازت سے درختوں پر لگے ہوئے چلغوزوں جمع کرنے سے عشر کا حکم


سوال

ہمارے علاقے میں چلغوزےکے درخت کے پہاڑ ہوتے ہیں،  یہ درخت مملوکہ زمینوں میں ہوتے ہیں، مالکان جب ان دانے درختوں سے کاٹ لیتے ہیں تو کچھ دانے درختوں پر رہ جاتے ہیں،پھرعام لوگ وہ باقی چند دانے مالکان کی اجازت سے  ان درختوں سے اکٹھا کرتے ہیں، پھر یہ لوگ انہی دانوں کو  یا ان سے چلغوزے نکال کر بیچتے ہیں ، تو اب کیا  ان اکٹھے کیے گئے دانوں یا ان سے نکالے گئے چلغوزے میں عشر  دینا واجب ہے؟  جب کہ مالکان اس درخت سے جو چلغوزے ابتداء اتارتے ہیں وہ ان سب کا عشر ادا کرتے ہیں۔

جواب

واضح رہے کہ مملوکہ زمینوں کے درختوں میں لگے ہوئے  چلغوزوں  کی تمام پیداوار کا  عشر اس کے مالک پر لازم ہے، اورعشر  پھل کے نکلتے ہی لازم ہوجاتا ہے، اگر  مالک کچھ پھل درختوں سے اتار نہ سکے تو اس کابھی محتاط اندازہ لگاکر عشر ادا کرنا ضروری ہے۔

صورت مسئولہ میں مملوکہ زمینوں کے درختوں میں لگے ہوئے  چلغوزوں  کی تمام پیداوار کا  عشر اس کے مالک پر لازم ہے، اگر  مالک کچھ پھل درختوں سے اتار نہ سکے تو اس کا  بھی  محتاط اندازہ لگاکر عشر ادا کرنا ضروری ہے، اس کے بعد  مالک کی اجازت سے  درختوں  پر رہ جانے والے باقی ماندہ چلغوزے  جمع کرنے والوں پر الگ سے عشر ادا کرنا لازم نہیں ۔

 

ويجب العشر عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - في كل ما تخرجه الأرض من الحنطة والشعير والدخن والأرز، وأصناف الحبوب والبقول والرياحين والأوراد والرطاب وقصب السكر والذريرة والبطيخ والقثاء والخيار والباذنجان والعصفر، وأشباه ذلك مما له ثمرة باقية أو غير باقية قل أو كثر هكذا في فتاوى قاضي خان...ويجب في الكتان وبذره؛ لأن كل واحد منهما مقصود كذا في شرح المجمع. ويجب في الجوز واللوز والكمون والكزبرة هكذا في المضمرات... وما يجمع من ثمار الأشجار التي ليست بمملوكة كأشجار الجبال يجب فيها العشر كذا في الظهيرية.... ووقته وقت خروج الزرع وظهور الثمر عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في البحر الرائق. فلو عجل عشر أرضه قبل الزرع لا يجوز، ولو عجل بعد الزراعة بعد النبات فإنه يجوز ولو عجل بعد الزراعة قبل النبات فالأظهر أنه لا يجوز، ولو عجل عشر الثمار إن كان بعد طلوعها يجوز، وإن كان قبل طلوعها لا يجوز في ظاهر الرواية هكذا في شرح الطحاوي.(الفتاوى الهندية،کتاب الزکاۃ، الباب السادس في زكاة الزرع والثمار،ج:1،ص:186)


فتویٰ نمبر : 10810/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور