بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
مانع حمل دوائی کی وجہ سے ہر پانچ دن کے بعد خون آنا
سوال
حمل بند کرنے کے لیے کوئی مانع حمل انجکشن یا گولی استعمال کرنا جس کی وجہ سے عورتوں کو غیر معمولی خون آنا شروع ہوجاتاہے اور وہ ہر پانچ یا دس دن بعد آتاہے اب سوال یہ ہے کہ یہ خون حیض شمار ہوگا یا استحاذہ ؟
جواب
جاننا چاہیے کہ حیض کی اقل مدت (تین دن) سے کم اورا کثر مدت (دس دن ) سے زیادہ اسی طرح نفاس کی اکثر مدت (چالیس دن ) سے زیادہ جو خون آئے وہ استحاضہ شمار ہوگا۔نیز حیض ونفاس کی عادت سے زائد وہ خون بھی استحاضہ ہے جو عادت کے ساتھ ساتھ اکثر مدت سے بھی متجاور ہوجائے ۔
صورتِ مسؤلہ کے مطابق اگر مانعِ حمل انجکشن یا گولی کے استعمال کی وجہ سے وقفے وقفے سے خون آتا ہو، تو عورت کی عادت والے دن حیض شمار ہوں گے، اور اس سے زائد تمام دن استحاضہ کے شمار ہوں گے۔
أقل الحيض ثلاثة ايام ولياليها وما نقص من ذلك فهو استحاضة" قوله عليه الصلاة والسلام "أقل الحيض للجارية البكر والثيب ثلاثة أيام ولياليها وأكثره عشرة أيام ... وأكثره عشرة أيام ولياليها والزائد استحاضة.(الهداية في شرح بداية المبتدي، ج: 1، ص: 32)
لو رأت الدم بعد أكثر الحيض والنفاس في أقل مدة الطهر فما رأت بعد الأكثر إن كانت مبتدأة وبعد العادة إن كانت معتادة استحاضة وكذا ما نقص عن أقل الحيض وكذا ما رأته الكبيرة جدا والصغيرة جدا. هكذا في المحيط.(الفتاوى الهندية ، ج: 1، ص: 38)