بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بائکیا پر غیر محرم عورت کو بٹھانے کی اجرت


سوال

بائکیا  اگر غیر محرم عورت بک کروائے اور بیٹھ جائے اس صورت میں کیا حکم ہے پہلے پتا نہیں چلا کہ رائڈ بک کروانے والا مرد ہے یا عورت ،جب لوکیشن پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ عورت ہے اب اگر اس کو  بایک پر بٹھائے تو کیا حکم  ہےاور اس سے جو اجرت ملے گا  وہ حلال ہےیا حرام ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت میں  نامحرم عورتوں کے ساتھ اختلاط سے سختی سے منع آئی ہے چنانچہ  بغیر کسی حائل کا مرد کا نامحرم عورت کے ساتھ گاڑی وغیرہ میں سوار ہونا شرعاً ناجائز ہے ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق  کسی غیر محرم عورت کو بائک پر سوار کرنا درست نہیں کیونکہ اس صورت میں مرد اور غیر محرم عورت کے جسم کا آپس میں مس ہونے کا قوی اندیشہ  ہوتا ہے   جہاں تک اجرت کی بات ہے تو   وہ چونکہ  اس کو لے جانے کی اجرت ہے اس لیے وہ حرام نہ ہوگی ۔

 

عن ابن عباس رضي الله عنهما: أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: لا يخلون رجل بامرأة ‌ولا ‌تسافرن ‌امرأة ‌إلا ‌ومعها ‌محرم فقام رجل فقال: يا رسول الله اكتتبت في غزوة كذا وكذا وخرجت امرأتي حاجة قال: اذهب فحج مع امرأتك.(صحیح البخاری، باب من اکتتب في جيش فخرجت امرأته حاجة،ج:3،ص:1094،رقم الحدیث،2844)

 بخلاف الاستئجار ‌لكتابة ‌الغناء والنوح أنه جائز؛ لأن الممنوع عنه نفس الغناء.(بدائع الصنائع،کتاب الإجارة،فصل فی شرائط رکن الإجارة،ج:4،ص:189)


فتویٰ نمبر : 4003/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور