بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
نماز یا وظائف کے بعد سجدہ شکر ادا کرنا
سوال
اگر کوئی آدمی نماز یا وظائف کرنے کے بعد سجدہ شکر کرے تو کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ مستقل طور پر نماز کے آخر میں سجدہ کی عادت بنالینے سے چونکہ یہ شبہ پیدا ہوجاتا ہے کہ یہ سجدہ بھی نماز کا حصہ ہے؛ اس لیے فقہاءِ کرام نے فرض نماز کے آخر میں سجدہ شکر کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے، لہٰذا فرض نماز کے آخر میں سجدہ کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ لیکن اگر نماز کے متصل بعد سجدہ نہ کیا، بلکہ وظیفہ پڑھتے اور اس کے بعد اس طور پر سجدہ کرے کہ نماز کا حصہ ہونے کا گمان نہ ہو تو مذکورہ کراہت نہیں رہے گی۔
صورت مسئولہ کے مطابق نماز کے بعد سجدہ شکر ادا کرنا مکروہ ہے اس سے اجتناب کرنا چاہیے تاہم نماز کے بعد وظائف کرنا پھر اس کے بعد سجدہ کرنے میں چونکہ وہ شبہ باقی نہیں رہتا اس لیے اس طرح سجدہ کرنا جائز ہے۔
(قوله: لكنها تكره بعد الصلاة) الضمير للسجدة مطلقاً. قال في شرح المنية آخر الكتاب عن شرح القدوري للزاهدي: أما بغير سبب فليس بقربة ولا مكروه، وما يفعل عقيب الصلاة فمكروه؛ لأن الجهال يعتقدونها سنة أو واجبة وكل مباح يؤدي إليه فمكروه، انتهى. وحاصله: أن ما ليس لها سبب لاتكره ما لم يؤد فعلها إلى اعتقاد الجهلة سنيتها كالتي يفعلها بعض الناس بعد الصلاة ورأيت من يواظب عليها بعد صلاة الوتر ويذكر أن لها أصلاً وسنداً فذكرت له ما هنا فتركها ثم قال في شرح المنية: وأما ما ذكر في المضمرات أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لفاطمة رضي الله تعالى عنها: ما من مؤمن ولا مؤمنة يسجد سجدتين إلى آخر ما ذكر. فحديث موضوع باطل لا أصل له. (قوله: فمكروه) الظاهر أنها تحريمية؛ لأنه يدخل في الدين ما ليس منه. (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج: 2، ص:120)