بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
بچے کا اپنے فعل کی وجہ سے فوت ہوجانے کی صورت میں ماں پر کفارہ کا حکم
سوال
اگر کوئی چھوٹا بچہ یا بچی جس کی عمر دو سال یا اس سے کم ہو، اپنے کسی فعل کی وجہ سے فوت ہوجائے، مثلاً: اس پر گرم پانی گر جائے، بجلی کا کرنٹ لگ جائے، تندور میں گر جائے یا کسی اور مہلک چیز سے جان چلی جائے، تو کیا ایسی صورت میں اس کی ماں پر کفارہ لازم ہوگا یا نہیں؟ شریعتِ مطہرہ اس بارے میں کیا حکم دیتی ہے؟
جواب
واضح رہے کہ کسی شخص پر کفارہ قتل "قتلِ خطا، شبہ خطا یا شبہ عمد" کی صورت میں لازم ہوتا ہے، اس کے علاوہ صورتوں میں کفارہ لازم نہیں ہوتا۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی بچہ یا بچی اپنے کسی فعل سے فوت ہوجائے، تو چونکہ بچے یا بچی کی اس طرح موت مذکورہ اقسامِ قتل میں سے کسی میں داخل نہیں، اس لیے اس کی ماں پر کوئی کفارہ واجب نہیں ہوگا۔
قال رحمه الله (وشبهه، وهو أن يتعمد ضربه بغير ما ذكر، الإثم والكفارة..... والخطأ، وهو أن يرمي شخصا ظنه صيدا أو حربيا فإذا هو مسلم أو غرضا فأصاب آدميا أو ما جرى مجراه كنائم انقلب على رجل فقتله الكفارة والدية على العاقلة) أي موجب قتل الخطأ وموجب ما جرى مجرى الخطأ الكفارة والدية على العاقلة. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، كتاب الجنايات، ج:6، ص:101)