بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
قرعہ اندازی کے ذریعے گاڑی بیچنا
سوال
ایک شخص نے 10 لاکھ روپے کی گاڑی خریدی، پھر اس گاڑی پر قرعہ اندازی کے ٹکٹ جاری کیے۔ ہر ٹکٹ کی قیمت اس نے 1000 روپے مقرر کی۔ اس طرح وہ 12 لاکھ روپے کے ٹکٹ فروخت کر چکا، اور بعد ازاں انہی ٹکٹوں کے درمیان قرعہ اندازی کر کے ایک شخص کو گاڑی دے دی۔ اس صورت کا شرعی حکم اور اس کے متعلق تفصیلی جواب مطلوب ہے۔
جواب
واضح رہے کہ ہر وہ معاملہ جس میں کئی لوگ پیسے ڈال کر اس میں شریک ہوں، پھرکسی ایک شخص کا نام قرعہ اندازی سے نکل آئے اور اس کو انعام ملے اور باقی تمام شرکاء کے پیسے ضائع ہو جائیں، تو ایسی قرعہ اندازی شرعا جوے(قمار) کے حکم میں داخل ہونے کی بنا پر ناجائز ہے۔
صورت مسئولہ میں 10 لاکھ روپے کی گاڑی خرید کراس پر قرعہ اندازی کے لیے ٹکٹ فروخت کرنا، اور بعد میں ان لوگوں کے درمیان قرعہ اندازی کرکے گاڑی ایک شخص کو دے دینا، جبکہ باقی تمام شرکاء کا محروم ہوجانا دراصل جوا(قمار) ہے، اس لیے ناجائز اور حرام ہے، اس سے اجتناب ضروری ہے ۔
قال الله تعالى:﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (المائدة:90)
القمار مشتق من القمر الذي يزداد وينقص، سمي القمار قماراً؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويستفيد مال صاحبه، فيزداد مال كل واحد منهما مرة وينتقص أخرى، فإذا كان المال مشروطاً من الجانبين كان قماراً، والقمار حرام، ولأن فيه تعليق تمليك المال بالخطر، وإنه لا يجوز. (المحيط البرهاني، کتاب الاستحسان والكراهية، ج:5 ص:323)
(قوله والقرعة لتطييب القلوب وإزاحة تهمة الميل) قال الشراح: هذا جواب الاستحسان، والقياس يأباها لأن استعمال القرعة تعليق الاستحقاق بخروج القرعة وهو في معنى القمار والقمار حرام، ولهذا لم يجوز علماؤنا استعمالها في دعوى النسب ودعوى الملك وتعيين العتق أو المطلقة، ولكنا تركنا القياس هاهنا بالسنة والتعامل. (فتح القدير، كتاب القسمة، فصل في كيفية القسمة، ج:9، ص:440)