بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
طلاق کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ
سوال
کس صورت میں کس لفظ کو کہنے سے طلاق پڑ جاتی ہے اس کے لیے بس طلاق کہنا ضروری ہے یا کسی دوسرے لفظ کے استعمال سے بھی طلاق ہوجاتی ہے؟
جواب
واضح رہے کہ طلاق کے الفاظ دو قسم پر ہیں:(1)صریح (2) کنایہ۔ طلاق اورطلاق سے مشتق الفاظ صریح سمجھے جاتے ہیں، جیسے: تجھے طلاق ہے، تو طلاق ہے، تو مطلقہ ہے، تو طالقہ ہے، میں آپ کو طلاق دیتا ہوں وغیرہ کے الفاظ طلاق صریحی کے الفاظ ہیں۔ اگر کسی نے بیوی کو صریح الفاظ کے ساتھ طلاق دے دی توان سے بغیر نیت کے طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
کنایہ سے وہ لفظ مراد ہے جو طلاق کے لیے وضع نہ ہو، البتہ طلاق کے لیے استعمال ہوتا ہو اور غیر طلاق کے لیے بھی ہو۔جیسے: نکل جا، چلی جا وغیرہ، ان الفاظ کے کہنے سے اگر طلاق کی نیت کی ہو یا دلالت حال(مذاکرہ طلاق یا حالت غضب) سے یہ معلوم ہو کہ شوہر نے یہ لفظ طلاق کی نیت سے استعمال کیا ہے تو طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ لیکن اگر کنائی الفاظ سے نہ تو شوہر نے طلاق کی نیت کی ہو اور نہ ہی اس کی حالت طلاق پر دلالت کرتی ہو تو ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔ نیزبسا اوقات بعض الفاظ عرف میں طلاق کے لیے استعمال ہونے کی وجہ سے ایک خاص حیثیت حاصل کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں لفظ اور عرف کو دیکھ کر جواب دیا جاسکتا ہے۔
الطلاق على ضربين صريح وكناية فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي لأن هذه الألفاظ تستعمل في الطلاق ولا تستعمل في غيره فكان صريحا وأنه يعقب الرجعة بالنص ولا يفتقر إلى النية لأنه صريح فيه لغلبة الاستعمال وكذا إذا نوى الإبانة لأنه قصد تنجيز ما علقه الشرع بانقضاء العدة فيرد عليه. (الهداية، باب ايقاع الطلاق، ج:3، ص:143)
صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسة (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) بالتشديد قيد بخطابها لانه لو قال: إن خرجت يقع الطلاق أو لا تخرجي إلا بإذني فإني حلفت بالطلاق فخرجت لم يقع لتركه الاضافة إليها (ويقع بها) أي بهذه الالفاظ وما بمعناها من الصريح،
ويدخل نحو طلاغ وتلاغ وطلاك وتلاك أو ط ل ق۔ ( الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الطلاق، باب الصريح،ج:4 ص:457)
(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره فالكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وھی حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب، فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الطلاق، باب الكنايات في الطلاق، ج:4، ص:526)