بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

رہنمائی اور تعلیمی مدد کے لئے مواد کی فراہمی پر اجرت لینا


سوال

ایک تحقیقی ادارہ طلبہ کرام کو تحقیقی مقالہ (Research Paper) تیار کر کے فراہم کرتا ہے، اور مقالے کا مواد بھی خود ادارہ مہیا کرتا ہے۔ تاہم، ادارہ یہ شرط عائد کرتا ہے کہ یہ مواد صرف رہنمائی اور تعلیمی مدد کے لیے ہے، جیسا کہ حل شدہ پرچے یا کتابوں کی شروحات دی جاتی ہیں، لیکن ادارہ یہ شرط عائد کرتا ہے کہ اسے تعلیمی ادارے میں جوں کا توں جمع کروانا سختی سے ممنوع ہے۔یہ شرط ادارے کی ویب سائٹ پر بھی واضح طور پر درج ہے، جس کی عبارت یہ ہے:ہماری پریمیم کسٹم رائٹنگ اور تعلیمی معاونت کی خدمات مطالعے، تحقیق اور سمجھ بوجھ کے مقاصد کے لیے ہیں۔ ہمارے مواد کو جوں کا توں تعلیمی اداروں میں جمع کروانا سختی سے ممنوع ہے۔ صارفین کے لیے تعلیمی دیانت کے اصولوں پر عمل کرنا لازمی ہے۔مزید تفصیلات درج ذیل ہیں: 1. ادارے سے مقالہ حاصل کرنے والے افراد عمومًا 18سال سے زائد عمر کے ہیں اور اپنے نفع و نقصان سے واقف ہیں۔ 2. حاصل ہونے والی ڈگری صرف اسی مواد پر منحصر نہیں، بلکہ طالب علم کا اپنا کام بھی شامل ہوتا ہے۔ 3. ریسرچ ادارہ طلبہ کی استعداد اور علمی قابلیت کو جانچنے کا پابند بھی نہیں ہے۔ 4. اہم بات یہ ہے کہ اس ادارے نے یہ شرائط قانونی اعتبار سے نافذ کی ہیں، جو دیگر تعلیمی یا تحقیقی ادارے عام طور پر نہیں کرتے۔ یہ شرائط صارفین کے حقوق و فرائض کو واضح کرتی ہیں اور ادارے کی نیت اور ذمہ داری کو قانونی دائرہ میں رکھتی ہیں۔ 5. طلبہ کو یہ مواد حوالہ کرتے وقت ان سے واضح حامی لی جاتی ہے کہ وہ ان شرائط کا خیال رکھیں۔ اب سوال یہ ہےکہ یہ تمام شرائط عائد کرنے کے باوجوداگر کوئی طالب علم ان شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بعینہ وہی مقالہ تعلیمی ادارے میں جمع کروا دے، تو کیا اس مواد کی تیاری کے بدلے ادارے کا اجرت لینا جائز ہے یا ناجائز؟

جواب

واضح رہے کہ رہنمائی اور تعلیمی مدد کے لئے  مواد کی فراہمی بذات خود ایک جائز کام  ہے ،اور جو کام فی نفسہ مباح ہو اوراس میں کسی حرام کام میں تعاون نہ ہو تو اس کی اجرت جائز ہے نیزاگرکسی کام کی نوعیت بذات خود جائز ہو،لیکن اس کے ناجائز استعمال کا امکان بعد میں کسی صارف کی وجہ سے پیدا ہو تو اس امکان کی وجہ سے اصل کام ناجائز نہیں ہوتا ،بشرط یہ کہ فراہم کرنے والے کی طرف سے حرام کام میں معاونت کی نیت نہ ہو۔اسی طرح یہ بھی یاد رہے کہ عام طور پر جو طلبہ اپنا مقالہ یا اسائمنٹ وغیرہ دوسروں سے لکھواتے ہیں،اس کی دو صورتیں ہیں:

1۔مکمل مقالہ کامواد،تحقیق اور تحریر وغیرہ سب کام ددوسروں کو عوض دے کر مکمل کرواتے ہیں۔

2۔مقالہ کا اصل متن خود تحریر کرتے ہیں  البتہ مواد جمع کرنے یا کمپوزنگ وغیرہ میں کسی سے تعاون لے۔

ان میں دوسری صورت عموماًتعلیمی اداروں کے قواعد اور ضوابط سے متصادم نہیں ہے ،لہذا ایسی صورت میں دوسرے ماہرین ،دوستوں  یا کسی کا تعاون طلب کرنا کوئی غیر قانونی یا ناجائز کام نہیں اور ایسا کرنے والا اگر اس کے عوض اُجرت لے تو جائز ہے۔البتہ پہلی صورت دھوکہ دہی اور علمی سرقہ کی ایک صورت ہے اس لئے شرعاً اور قانوناً جائز نہیں ہے چنانچہ اس طرح معاونت پر معاوضہ لینا تعاون علی المعصیۃ کے مترادف ہے۔

صورت مسئولہ   میں مذکورہ ادارہ  اگر واقعتاً سوال میں تحریر کردہ شرائط کی بنیاد پر  صرف مواد فراہم کرتا  ہو  جس میں جزوی طور پر اس طالب علم کے ساتھ معاونت ہو اور اس کی رہنمائی کی جاتی ہو تو یہ ایک مباح کام ہے اس لئے اس پر اُجرت لینا جائز ہے ۔ البتہ اگرادارہ پورا مقالہ حتمی شکل میں فراہم کرتا ہو  تو اس صورت میں  ادارہ تعاون علی المعصیۃ  کے زمرے میں شمار ہوگا۔اس طرح اُن کا اُجرت لینا بھی جائز نہ ہو گا۔

 

و يجوز الإستئجار علي تعليم اللغة و الأدب؛لأنه ليس بفرض ولا واجب.( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،كتاب الاجارة،ج:6، ص:14)

وعلى ‌هذا ‌يخرج ‌الاستئجار ‌على ‌المعاصى ‌أنه ‌لا ‌يصح ‌لأنه ‌إستئجار ‌على ‌منفعة ‌غير ‌مقدورة ‌الإستيفاء ‌شرعا ‌كإستئجار ‌الإنسان ‌للعب ‌واللهو، وكإستئجار المغنية، والنائحة للغناء، والنوح بخلاف الإستئجار لكتابة الغناء والنوح أنه جائز؛ لأن الممنوع عنه نفس الغناء، والنوح لا كتابتہ.(بدائع الصنائع فى ترتيب الشرائع،كتاب الاجارة،ج:5،ص :562(

و‌جاز بيع ‌عصير عنب ممن يعلم أنه يتخذه خمرا لان المعصية لا تقوم بعينه بل بعدتغيره) .الدر المختار شرح تنوير الأبصار,كتاب الحظر و الإباحة،ص:661)

وكذا ‌لا ‌يكره ‌بيع ‌الجارية ‌المغنية ‌والكبش ‌النطوح والديك المقاتل والحمامة الطيارة؛ لأنه ليس عينها منكرا وإنما المنكر في استعمالها المحظور اهـ.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الجهاد،ج:6،ص:420)


فتویٰ نمبر : 3985/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور