بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بچوں كا غلط تاريخ پيدائش لكھنا


سوال

 اکثر والدین اپنے بچوں کی تاریخ پیدائش اسکولز میں غلط لکھواتے ہیں، جیسے کہ اگر ایک بچہ 1990 میں پیدا ہوا ہو تو والدین اسکول میں اس کی تاریخ پیدائش 1993 لکھواتے ہیں۔ کیا یہ ناجائز اور گناہ ہے؟ اور اگر اس غلط تاریخ پیدائش لکھنے کی بناپر مستقبل میں اس کو کوئی نوکری مل جائے تو اس کے لیےتنخواہ لینا حلال ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی بھی شخص کا جانتے ہوئے اپنے بچوں کی اصلی عمر کی بجائے کم یا زیادہ عمر لکھنا شرعا جھوٹ اور دھوکہ دہی ہے، جوکہ ناجائز اور حرام ہے۔ اس لیے جان بوجھ کر تاریخ پیدائش میں غلط اندراج کروانے سے اجتناب ضروری ہے، وگر نہ جب بھی جہاں کہیں اور کسی بھی موقع پر تاریخ پیدائش لکھنے کی نوبت آئے گی جھوٹ اور دھوکہ دہی لازم آئے گی،اس لیے اصلی عمر لکھنا ضروری ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق کسی شخص کا جانتے ہوئے اپنی عمریا اپنے بچوں کی اصلی عمر کی بجائےکم یا زیادہ عمر لکھنا ناجائز اور گناہ ہے۔ اس لیے اس سے اجتناب ضروری ہے۔ تا ہم اگر ایسی غلطی کی گئی اور بعد ازاں اس کم عمر لکھنے کی بنا پر اس کو کوئی ملازمت حاصل ہو جائے تو اس کی تنخواہ اس کے لیےحرام نہیں۔

 

عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ‌آية ‌المنافق ‌ثلاث: ‌إذا ‌حدث ‌كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان. (جامع الترمذي،باب في علامة المنافق، رقم الحديث:2631، ج:3، ص:1045)


فتویٰ نمبر : 6551/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور