بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
ٹرسٹ کے مال کو خلط ملط کرنا
سوال
ٹرسٹ کے لیے علیحدہ بینک اکاؤنٹ نہیں بنایا گیا، بلکہ میرا ذاتی اکاؤنٹ ہی استعمال ہوتا ہے، اس میں میرے ذاتی پیسے بھی رہتے ہیں(مثلاً ہزار، پندرہ سو روپے) اور ٹرسٹ کے عطیات بھی اسی میں آتے ہیں، میں ہمیشہ اپنے ذاتی پیسوں کی حد تک ہی خرچ کرتا ہوں، اس سے زیادہ نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت میں میرے ذاتی اور ٹرسٹ کے پیسے شرعاً مخلوط (mix) شمار ہوں گے؟ اور اس میں سے صرف اپنے پیسوں کے بقدر خرچ کرنا خیانت ہوگی؟
جواب
واضح رہے کہ ٹرسٹ میں لوگوں کا مال جو صدقے کے طور پر جمع ہوتا ہے، شرعا یہ امانت کے حکم میں ہے، اس لئے مناسب نہیں کہ وکیل اس میں ایسا تصرف کرے، جس میں خیانت کا شائبہ ہو اور جو تصرف ایسا ہوکہ اس سے زکوۃ یا صدقہ میں دی گئی چیز پر کوئی اثر نہ پڑتا ہو تو اس کی گنجائش ہے، جہاں تک نوٹ میں تبدیلی کا تعلق ہے تو بہتر یہ ہے کہ وکیل موکل کے دئے گئے نوٹ ہی فقراء میں تقسیم کرے، تاہم اگر کوئی شخص کئی لوگوں کا وکیل ہو، جن کے رقوم اس کے پاس جمع ہوتے ہوں جیسے کسی رفاہی ادارے کا نمائندہ یا مدرسے کا مہتمم، تو ایسی صورت میں ہر ایک کے نوٹ کو الگ الگ رکھنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ اس لئے عرف اس پر ہے کہ ایسی رقوم خلط ملط ہوکر خرچ ہوتی ہیں، اس لئے ایسی صورت میں وکیل گناہگار نہ ہوگا۔
لہذا صورت مسئولہ میں مالک کا اکاؤنٹ میں پیسے بھیجنا مال کے خلط ملط کرنے کی دلالتاً اجازت ہے، اس لئے مال کے خلط ملط کا گناہ نہ ہوگا لیکن ٹرسٹ کے لئے ذاتی اکاؤنٹ استعمال کرنے میں بے احتیاطی کا قوی اندیشہ موجود ہے، اس لئے ٹرسٹ کے لئے ذاتی اکاؤنٹ بنانا ہی دانشمندی کا تقاضا ہے۔
خلط الوديعة بدون إذن المودع بمال آخر بحيث لا يمكن تمييزها،و تفريقها عنه يعد تعديّا. (شرح المجلة لسليم رستم باز،كتاب الوديعة،مادّة:788،ص:437)
إذا خلط المستودع الوديعة بإذن صاحبها على الوجه الذي ذكر في المادّة السابقة أو اختلطت مع مال آخر بدون صنعه بحيث لا يمكن تفريق أحد المالين عن الآخر كما إذا تهرى الكيس الذي فيه دنانير الوديعة داخل صندوق فيه دنانير آخر للمستودع مماثلة لها فاختلط المالان اشترك صاحب الوديعة و المستودع بمجموع الدنانير كل منهما على قدر حصته. و في هذه الصورة إذا هلكت أو ضاعت بلا تعد و لا تقصير لا يلزم الضمان. (شرح المجلة لسليم رستم باز،كتاب الوديعة،مادّة:789،ص:438)