بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
ٹرسٹ فنڈ خرچ کرنے میں نيت كا اعتبار
سوال
میرا ٹرسٹ ہے اور ہم نیک کاموں میں استعمال کے لئے لوگوں سے پیسے وصول کرتے ہیں، اور ہم لوگوں کو یہ کہتے ہیں کہ آپ ہمیں پیسے دیں ہم آپ کے پیسے مختلف کاموں میں تھوڑے تھوڑے خرچ کریں گے تاکہ آپ کو زیادہ ثواب ملے، اب جب ہم کوئی کام کرتے ہیں تو پیسے خرچ کرتے وقت ہر ایک کی طرف سے تھوڑے تھوڑے پیسوں کی نیت کرتے ہیں تو کیا صرف نیت سے ان کی طرف سے ادائیگی ہوجائیگی،اور کیا بعد میں ان کو بتانا یعنی تفصیل دینا شرعاً ضروری ہے۔
جواب
واضح رہے کہ ٹرسٹ پیسے دینے والوں کی طرف سے مصارف میں خرچ کرنے کا وکیل ہوتا ہے، لہذا ٹرسٹ کو دی جانے والی رقم مصارف میں خرچ کرنے سے پیسے دینے والوں کی طرف سے ادائیگی شمار ہوگی اور پیسے دینے والوں نے پیسے دیتے وقت جو نیت کی تھی ان کو ثواب بھی اسی کے مطابق ملے گا۔
باقی ٹرسٹ کے لئے خرچ کرنے میں تفصیل یہ ہے کہ اگررقم نفلی صدقات کی ہوتو وہ جہاں مناسب سمجھیں خرچ کرسکتے ہیں اور اگر رقم صدقات واجبہ زکوۃ وغیرہ کی ہو تو کسی مستحق زکوۃ کو اس رقم کا مالک بنانا ضروری ہے، زکوۃ کی رقم دوسرے کاموں میں خرچ کرنا جائز نہیں۔
والمعتبر في الدفع نية الآمر حتى لو دفع خمسة إلى رجل وأمره أن يدفعها إلى الفقير عن زكاة ماله فدفع ولم تحضره النية عند الدفع جاز؛ لأن النية إنما تعتبر من المؤدي والمؤدي هو الآمر في الحقيقة وإنما المأمور نائب عنه في الأداء.(بدائع الصنائع ، كتاب الوكالة،ج:2، ص:40)