بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
تصاویر والی جگہ میں نماز پڑھنا
سوال
میں ایک میڈیکل اسٹوڈنٹ ہوں، ہماری کتابوں پر اکثر انسانی تصاویر بنی ہوتی ہیں،اور کتابیں کمرے میں، سامنے میز پر رکھی ہوتی ہیں، کیا اس صورت میں نماز ہو جاتی ہے؟ نیز اگر صرف انسانی اعضاء (آنکھ ، کان اور ناک وغیرہ) کی تصاویر ہوں تو کیا حکم ہے؟
جواب
جہاں پر تصاویر لٹکائی گئی ہو وہاں نماز پڑھنا مکروہ ہے چاہے سامنے ہو یا دائیں، بائیں یا سر کے اوپر، البتہ یہ اس وقت جب تصویر اتنی بڑی ہو کہ نمایاں نظر آتی ہو، چنانچہ اگر تصویر اتنی چھوٹی ہو کہ بغیر غور کے نظر آنا مشکل ہو، تو ایسی صورت میں نماز پڑھنا مکروہ نہیں۔
صورت مسئولہ کے مطابق جس کمرے میں سامنے میز پر جاندار کی تصاویر والی کتابیں رکھی ہوں، اُس کمرے میں نماز پڑھنا جائز ہے، البتہ نماز سے پہلے ان کتابوں کی تصاویر کو چھپا دینا چاہیے؛ کیوں کہ اگر تصاویر والی کتابیں سامنے رکھی ہوں اور اُن پر تصاویر نظر آرہی ہوں، تو نما زمکروہ ہوگی۔ البتہ پورے چہرے کے بغیر صرف انسانی اعضاء (مثلا آنکھ ، کان اور ناک وغیرہ) کی الگ الگ تصاویر ہوں تو وہ، حرام تصویر میں داخل نہیں۔ اس لیے اس کی موجودگی میں نماز پڑھنے میں کوئی کراہت نہیں۔
ويكره أن يصلي وبين يديه أو فوق رأسه أو على يمينه أو على يساره أو في ثوبه تصاوير وفي البساط روايتان والصحيح أنه لا يكره على البساط إذا لم يسجد على التصاوير وهذا إذا كانت الصورة كبيرة تبدو للناظر من غير تكلف. كذا في فتاوى قاضي خان ولو كانت صغيرة بحيث لا تبدو للناظر إلا بتأمل لا يكره وإن قطع الرأس فلا بأس به، وقطع الرأس أن يمحي رأسها بخيط يخاط عليها حتى لم يبق للرأس أثر أصلا ولو خيط بين الرأس والجسد لا يعتبر؛ لأن من الطيور ما هو مطوق وأشدها كراهة أن تكون أمام المصلي ثم فوق رأسه ثم يمينه ثم يساره ثم خلفه. هكذا في الكافي وفي التهذيب ولو كانت على وسادة منصوبة بين يديه يكره ولو كانت ملقاة على الأرض لا يكره. كذا في التتارخانية ولا يكره تمثال غير ذي الروح كذا في النهاية. (الفتاوى الهندية، کتاب الصلاۃ، الفصل الثاني فيما يكره في الصلاة ومالايكره، ج:1، ص:107)
قال رحمه الله (ولبس ثوب فيه تصاوير) لأنه يشبه حامل الصنم فيكره قال رحمه الله (وأن يكون فوق رأسه أو بين يديه أو بحذائه صورة) لقوله صلى الله عليه وسلم لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة؛ ولأنه يشبه عبادتها فيكره وأشدها كراهة أن تكون أمام المصلي ثم فوق رأسه، ثم على يمينه، ثم على يساره، ثم خلفه وفي الغاية إن كان التمثال في مؤخر الظهر والقبلة لا يكره؛ لأنه لا يشبه عبادته، وفي الجامع الصغير أطلق الكراهة. قال رحمه الله (إلا أن تكون صغيرة) لأنها لا تعبد إذا كانت صغيرة بحيث لا تبدو للناظر والكراهة باعتبار العبادة فإذا لم يعبد مثلها لا يكره. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،ج:1، ص:166)