بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
مسجد کے لیے چندہ دے کر واپس لینا
سوال
اگر کسی علاقے میں مسجد کی تعمیر جاری ہو، اور ایک شخص اس میں بطورِ چندہ پیسے دے دے، لیکن تعمیر مکمل ہونے کے بعد پتہ چلے کہ اس مسجد کا متولی کسی دوسرے مسلک سے وابستہ ہے، اور اس نے مسجد میں تبلیغی جماعت اور پر پابندی لگا رکھی ہے، تو کیاایسے حالات میں چندہ دینے والے شخص کے لیے شرعاً یہ جائز ہے کہ وہ اپنی دی ہوئی رقم واپس لے کر کسی دوسری مسجد میں استعمال کرے؟
جواب
واضح رہے کہ اگرکوئی شخص مسجد کی تعمیر کے لیے رقم (چندہ) دے دے اور وہ رقم مسجد کی تعمیر میں استعمال بھی ہوجائے، تو اس رقم کی واپسی کا مطالبہ جائز نہیں، نیز ایک مسجد کےلیے وقف کی گئی رقم کو دوسری مسجد میں استعمال کرنا بھی جائز نہیں۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص مسجد کی تعمیر کے لیے بطورِ چندہ پیسے دے، اور وہ رقم مسجد کی تعمیر میں استعمال کی گئی ہو، تو چندہ دینے والے شخص کے لیے متولی مسجد کے ساتھ اختلاف کی وجہ سے اپنی دی ہوئی رقم واپس لے کر دوسری مسجد میں استعمال کرنا شرعاًجائز نہیں۔
(فإذا تم ولزم لايملك ولا يعار ولا يرهن). (الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الوقف، ج:4، ص:351-352)
(قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه، ولا يعار، ولا يرهن لاقتضائهما الملك درر؛ ويستثنى من عدم تمليكه ما لو اشترط الواقف استبداله وسيأتي الكلام عليه. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الوقف، ج:4، ص:352)
رجل أعطى درهما في عمارة المسجد أو نفقة المسجد أو مصالح المسجد صح؛ لأنه وإن كان لا يمكن تصحيحه تمليكا بالهبة للمسجد فإثبات الملك للمسجد على هذا الوجه صحيح فيتم بالقبض. (الفتاوى الهندية، كتاب الوقف، الباب الحادي عشر في المسجد وما يتعلق به، الفصل الأول، ج:2، ص:460)