بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
انزال کی صورت میں حرمتِ مصاہرت کا حکم
سوال
ایک آدمی نے عورت کو حائل کے بغیر شہوت سے ہاتھ لگایا ، جس سے اس آدمی کو انتشار ہوا پھر اس نے ہاتھ ہٹا لیا ، اورشہوت کے دوران میں ہاتھ سے انزال کرلیا، انزال کے وقت انتشار کی شدّت مس کے وقت کی نسبت تھوڑی کم تھی، لیکن انزال میں مس کو دخل تھا ، اس کا یقین ہے۔ کیا اس سےحرمت مصاہرت ثابت ہوجائےگی ؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی آدمی کسی مشتہاۃ عورت کو بغیر حائل کے یا ایسے حائل کے ہوتے ہوئےشہوت کے ساتھ چھولے،جس سے بدن کی حرارت محسوس ہوتی ہو، تو اس سےحرمتِ مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے، یعنی چھونے والے مرد کے اصول اور فروع اس عورت پر اوراس عورت کے اصول اور فروع چھونے والے مرد پر حرام ہو جاتے ہیں، البتہ حرمتِ مصاہرت کے ثبوت کے لیے شرط یہ ہے کہ شہوت کے ساتھ چھونے کے وقت انزال نہ ہو اگر انزال ہو جائے تو حرمت ثابت نہ ہوگی۔
لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق جس شخص نے عورت کوشہوت کے ساتھ چھوا اگرچھونے کے بعد مشت زنی کے ذریعے اپنے آپ کو فارغ کردیا ہو، توحرمتِ مصاہرت ثابت نہ ہوگی کیونکہ ایسا مس بنیادی طور پر دواعی جماع میں سے نہیں رہا۔
ومن مسته امرأة بشهوة حرمت عليه أمها وبنتها...ولو مس فأنزل فقد قيل إنه يوجب الحرمة والصحيح أنه لا يوجبها لأنه بالإنزال تبين أنه غير مفض إلى الوطء. (الهداية في شرح بداية المبتدي، كتاب النكاح، ج:1، ص:188)
ثم شرط الحرمة بالنظر أو المس أن لا ينزل، فإن أنزل قال الأوزجندي وغيره: تثبت لأن بمجرد المس بشهوة تثبت الحرمة، والإنزال لا يوجب رفعها بعد الثبوت. والمختار لا تثبت كقول المصنف وشمس الأئمة والبزدوي بناء على أن الأمر موقوف حال المس إلى ظهور عاقبته إن ظهر أنه لم ينزل حرمت وإلا لا. (فتح القدير للكمال بن الهمام، ج:3، ص:215)
ومعنى قولهم المس بشهوة لا يوجب الحرمة بالإنزال: هو أن الحرمة عند ابتداء المس بشهوة كان حكمها موقوفا إلى أن تبين بالإنزال، فإن أنزل لم تثبت وإلا ثبتت، لا أن يكون معناه أن حرمة المصاهرة تثبت بالمس، ثم بالإنزال سقط ما يثبت من الحرمة لأن موجب المصاهرة إذا ثبت لايسقط أبدا. (العناية شرح الهداية، كتاب النكاح، ج:3، ص:225 )