بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/10/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

طلاق کو جہاد سے پہلے نکاح کرنے پر معلق کرنا


سوال

اگر کوئی شخص یہ کہے " تركمی چی ما جهاد نہ ئی كڑے، جنگيدلے نہ يم د هغی نہ مخكی ما چرتہ هم واده اوكو پہ مابہ خزه طلاقہ ئی" (جب تک میں نے جہاد نہ کیا  ہو اس سے پہلے میں جب /   جہاں بھی  شادی کرو ں تو مجھ پر بیوی طلاق ہوگی )ان الفاظ کا کیا حکم ہے آیا وہ شخص ابھی نکاح کرسکتا ہے یا نہیں ؟

جواب

 واضح رہے کہ طلاق واقع ہونے کے لیے ضروری ہے کہ جس عورت کو طلاق دی جارہی ہو وہ عورت اس  شخص کے نکاح میں  موجود ہو،یا اگروہ نکاح میں موجود نہ ہو تو ملک یا سبب ملک کی طر ف نسبت کرکے طلاق دی گئی ہو۔

صورت مسئولہ میں چونکہ سائل نے  طلاق کو جہاد سے پہلے نکاح کرنے  پر معلق کیا ہے، اس لئے جب  تک سائل نے جہاد نہ کیا ہو اور نکاح کرے گا  تو اس کی بیوی پر طلاق واقع  ہوگی۔

 

(وفيها )كلها (تنحل) أى تبطل (اليمين) ببطلان التعليق(إذا وجد الشرط مرة إلا في كلما،فإنه ينحل بعد الثلاث) لاقتضائها عموم الأفعال كاقتضاء كل عموم الأسماء (فلا يقع إن نكحها بعد زوج اخر إلا إذا دخلت كلما على التزوج نحو: كلما تزوجت فأنت كذا) لدخولها على سبب الملك وهو غير متناه.( رد المحتار علی الدر المختار، كتاب الطلاق، باب التعلیق ،ج:4، ص606۔607)


فتویٰ نمبر : 7323/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور