بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
نکاح کے وقت سٹام پیپر پرلڑکے یا اس کے والدین سے شرائط لکھوانا
سوال
آج کل بڑے بڑے شہروں میں ایک رواج چل پڑا ہے کہ رشتہ کرتے وقت لڑکی والے جب اپنے خاندان سے باہر شادی کرتے ہیں تو لڑکے والوں سے اسٹام پیپر پر شرائط لکھواتے ہیں یا ویسے ہی کچھ بھاری رقم لکھوا لیتے ہیں، اس نیت سے کہ کل کو لڑکا طلاق نہ دے سکے یا یوں کہیں کہ سیکیورٹی کے نام پر یہ سب کیا جاتا ہے،اب سوال یہ ہے کہ ایسا کرنا شریعت کے لحاظ سے کیسا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ نکاح کے وقت مہر یا نفقہ کی شرط لگانا درست ہے جبکہ ایسے شرائط لگاناجائز نہیں جس کانکاح سے کوئی تعلق نہ ہو ۔
لہذاصورت مسؤلہ کے مطابق نکاح کرتے وقت لڑکے یا اس کے والدین سے اسٹام پیپر پر جائز شرائط جيسے مهر،نفقه وغيره لکھوانا جائز ہے،البتہ ایسے شرائط جس کا عقد نکاح سے کوئی تعلق نہ جیسے حق مہر کے علاوہ بھاری رقم لکھوانا، اس سے اجتناب ضروری ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف: حدثنا الليث قال: حدثني يزيد بن أبي حبيب، عن أبي الخير، عن عقبة بن عامر رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (أحق الشروط أن توفوا به ما استحللتم به الفروج).(صحيح البخاري،كتاب الشراوط ،باب الشروط في المهر عند عقدة النكاح ،ج:2،ص:970،رقم الحديث،4856)
(ما استحللتم به الفروج) قال القاضي: المراد بالشروط هاهنا المهر لأنه المشروط في مقابلة البضع، وقيل: جميع ما تستحقه المرأة بمقتضى الزوجية من المهر والنفقة وحسن المعاشرة فإن الزوج التزمها بالعقد فكأنها شرطت فيه، وقيل: كل ما شرط الزوج ترغيبا للمرأة في النكاح ما لم يكن محظورا.(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح،كتاب النكاح،باب إعلان النكاح والخطبة والشرط،ج:5،ص:2066