بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

سورۃ یٰس پڑھنے کی نذر ماننے سے نذر منعقد ہونے کا حکم


سوال

اگر کسی نے نذر  مانی  کہ اگر فلاں کام ہوجائے تو میں ستر (70) مرتبہ سورہ یٰسین پڑھوں گا،  اب کام ہونے کے بعد کیا وہ کسی اور سے پڑھوا سکتا ہے کہ نہیں؟یا ایسے ہی نماز روزے وغیرہ کی نذر ہوتو  کوئی اور ادا کرسکتاہےکہ نہیں؟

جواب

واضح رہےکہ نذر (منت) کے منعقد ہونے کےشرائط میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جس بات کی نذر (منت) مانی گئی ہو وہ مقصودی عبادات میں سے ہو، جیسے: نماز، روزہ، حج،قربانی وغیرہ، اور جو مقصودی عبادت نہ ہو، جیسے: وضو، مریض کی عیادت، مسجد کی تعمیر یا اس کی خدمت وغیرہ تو اس کی نذر (منت) ماننے سے شرعًا وہ منعقد نہیں ہوتی۔

لہذا صورتِ مسئولہ  کے مطابق سورۃ یٰسین پڑھنا کوئی ایسی عبادت نہیں ہے جو مقصودی ہو؛  لہذا سورۂ  یٰسین پڑھنے کی نذر ماننے سے سورۂ  یٰسین پڑھنا لازم نہیں ہوگا،تاہم اللہ کے ساتھ  ایک وعدہ کیا ہے تو اسے پورا کرلینا چاہیے،جبکہ نماز یا روزہ کی نذر  ماننے سے نذر منعقد ہوجاتی ہے ، تاہم  نماز پڑھنے یا روزہ رکھنے کی نذر ماننے کی صورت میں مذکورہ عبادات کو بجالانا خود نذر ماننے والے پر لازم ہے، یہ نذر کسی اور سے پوری نہیں کی جاسکتی۔

 

(‌ومنها) ‌أن ‌يكون ‌قربة فلا يصح النذر بما ليس بقربة رأسا كالنذر بالمعاصي... لقوله عليه الصلاة والسلام «لا نذر في معصية الله تعالى» ، وقوله: عليه الصلاة والسلام «من نذر أن يعصي الله - تعالى - فلا يعصه» ، ولأن حكم النذر وجوب المنذور به، ووجوب فعل المعصية محال وكذا النذر بالمباحات من الأكل والشرب والجماع ونحو ذلك لعدم وصف القربة لاستوائهما فعلا وتركا،... (‌ومنها) ‌أن ‌يكون ‌قربة مقصودة، فلا يصح النذر بعيادة المرضى وتشييع الجنائز والوضوء والاغتسال ودخول المسجد ومس المصحف والأذان وبناء الرباطات والمساجد وغير ذلك وإن كانت قربا؛ لأنها ليست بقرب مقصودة ويصح النذر بالصلاة والصوم والحج والعمرة والإحرام بهما والعتق والبدنة والهدي والاعتكاف ونحو ذلك؛ لأنها قرب مقصودة،وقد قال النبي عليه الصلاة والسلام: «من نذر أن يطيع الله - تعالى - فليطعه» ، وقال عليه الصلاة والسلام: «من نذر وسمى فعليه وفاؤه بما سمى» ؛ إلا أنه خص منه المسمى الذي ليس بقربة أصلا،... فقال: ما له أصل في الفروض يصح النذر به... وما لا أصل له في الفروض لا يصح النذر به كعيادة المرضى وتشييع الجنازة ودخول المسجد ونحوها وعلل بأن النذر إيجاب العبد فيعتبر بإيجاب الله تعالى.( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب النذر، بيان ركن النذر وشرائطه، ج:5، ص:83 )


فتویٰ نمبر : 6543/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور